مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی ذرائع ابلاغ نے اعتراف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج ایک نئے اور خطرناک دلدل میں پھنس چکی ہے، جہاں اسے شدید مزاحمت اور بڑھتے ہوئے نقصانات کا سامنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق صہیونی میڈیا نے جنوبی لبنان کے محاذ کو اسرائیلی فوج کے لیے سب سے مشکل اور خونریز میدان قرار دیا ہے۔
صہیونی اخبار ہارٹز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ حزب اللہ اسرائیلی فوج کی کمزوریاں شناخت کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے اور یہاں تک کہ اسرائیلی فوجی یونٹوں کے اندر بھی لبنان میں آپریشن جاری رکھنے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ہارٹڑ نے مزید کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے پسپائی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے، بلکہ وہ اپنی کارروائیاں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی بڑی کارروائیاں 2025 میں غزہ میں اختیار کیے گئے طریقہ کار سے ملتی جلتی ہیں، جہاں اسرائیلی فوج نے منظم انداز میں وسیع پیمانے پر گھروں کو تباہ کرنے کو اپنی حکمت عملی کا حصہ بنایا تھا۔
اسرائیلی میڈیا نے اسرائیلی فوجیوں کے زخمی ہونے والوں کی بڑھتی تعداد کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ اس صورتحال نے فوج کے اندر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ اسرائیلی فوج کے اندر یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ آیا مقررہ اہداف اتنے اہم ہیں کہ فوجی ڈرون حملوں کے خطرے کے باوجود اس قدر بڑا رسک برداشت کریں یا نہیں۔
دوسری جانب صہیونی اخبار اسرائیل ہیوم نے بھی اعتراف کیا ہے کہ لبنان کا دلدل دوبارہ لوٹ آیا ہے اور اب اعلیٰ فوجی افسران بھی مان رہے ہیں کہ جنگ سے پہلے کے مقابلے میں حالات کہیں زیادہ خراب ہوچکے ہیں۔
اسرائیل ہیوم نے لکھا کہ حزب اللہ کے فائبر آپٹک ڈرونز کے معاملے میں اسرائیلی فوج کو تاکتیکی شکست کا سامنا ہے، جبکہ غرور اور تکبر پر مبنی پالیسیوں کے نتیجے میں اسے ایک بڑی اسٹریٹجک ناکامی کی طرف بھی دھکیلا جا رہا ہے۔
