مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ خلیج فارس کچھ ممالک ایران کے خلاف جنگ میں شریک رہے لہذا اعتماد بحال کرنے کے لیے نقصان کا ازالہ کریں۔
تفصیلات کے مطابق ترجمان اسماعیل بقائی نے خلیج فارس تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے ایران کے خلاف لگائے گئے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ہمیشہ ہمسائیگی کے اصول، علاقائی تعاون اور پڑوسی ممالک کی خودمختاری کے احترام پر قائم رہا ہے۔
بقائی نے کہا کہ خلیج فارس تعاون کونسل کے بعض رکن ممالک نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ میں غیرقانونی طور پر شرکت کی۔ ان حکومتوں نے پہلے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گی، لیکن اس کے باوجود انہوں نے نہ صرف اس عمل کو روکنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا بلکہ بعض صورتوں میں جارحیت میں عملی طور پر شریک بھی ہوئیں۔
ایرانی ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 3314 کے مطابق یہ حکومتیں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی قوم کے خلاف کی گئی سنگین کارروائیوں میں شریک جرم شمار ہوتی ہیں۔
بقائی نے آبنائے ہرمز سے متعلق خلیج فارس تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی کے بیان کو بھی رد کرتے ہوئے کہا کہ ایران ایک ساحلی ملک کی حیثیت سے اس اہم سمندری گزرگاہ میں اپنے دفاع کے لیے عملی اور مناسب اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کی طرف سے مسلسل حملوں اور دھمکیوں کا سامنا ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے اقدامات کا مقصد اپنی خودمختاری، علاقائی سلامتی، سرحدی تحفظ اور سمندری آمدورفت کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے، اور یہ تمام دفاعی اقدامات بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق ہیں۔
ترجمان وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ایران ہمیشہ خطے میں اعتماد سازی اور باہمی تعاون کا حامی رہا ہے اور مسلسل ایسے بیانات اور اقدامات کی مخالفت کرتا آیا ہے جو خطے میں اختلافات کو ہوا دیتے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی حملوں میں اپنے کردار کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی تلافی کریں اور آئندہ ایران دشمن قوتوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون سے مکمل طور پر گریز کریں۔
