ایران آبنائے ہرمز میں دشمن کے کھیل کا خاتمہ کرے گا، رہبر انقلاب اسلامی

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی نے قومی یوم خلیج فارس کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر انتظامی اختیار کے عملی استعمال کے ذریعے خلیج فارس کے خطے کو محفوظ بنائے گا اور اس آبی گزرگاہ سے دشمن کے ناجائز مفادات اور استحصال کا خاتمہ کرے گا۔

انہوں نے اپنے پیغام میں خلیج فارس کو خطے کے مسلم ممالک اور بالخصوص ایرانی قوم کے لیے خدا کی عظیم نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک سمندری خطہ نہیں بلکہ تہذیب، شناخت، اقوام کے باہمی رابطے اور عالمی معیشت کی ایک اہم شاہراہ ہے، جو آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان کے ذریعے دنیا کو جوڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس اسٹریٹجک دولت پر ہمیشہ استعماری طاقتوں کی للچائی نگاہیں رہی ہیں اور یورپی و امریکی طاقتوں کی بار بار مداخلت، بدامنی اور سازشیں اسی سلسلے کا حصہ رہی ہیں، جن کی تازہ مثال حالیہ امریکی جارحیت ہے۔

رہبر انقلاب نے کہا کہ ایران نے اپنے پاس خلیج فارس کا سب سے بڑا ساحلی علاقہ ہونے کے ناطے ہمیشہ اس خطے کی آزادی اور غیر ملکی تسلط کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ پرتگالیوں کے انخلا اور آبنائے ہرمز کی آزادی سے لے کر ہالینڈ اور برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد تک ایرانی قوم نے مزاحمت کی روشن تاریخ رقم کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی انقلاب ان تمام مزاحمتوں کا نقطۂ عروج تھا، جس نے خلیج فارس سے استکباری طاقتوں کے اثر و رسوخ کو محدود کیا۔

رہبر انقلاب نے مزید کہا کہ دنیا کی طاقتور قوتوں کی سب سے بڑی فوجی یلغار اور خطے میں حالیہ جارحیت کے دو ماہ بعد امریکا اپنی سازش میں ذلت آمیز ناکامی سے دوچار ہوا اور اب خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کا نیا دور شروع ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے کی اقوام نے گزشتہ ساٹھ روز میں ایرانی بحری افواج، سپاہ، جنوبی ایران کے عوام اور نوجوانوں کی جرات، بصیرت اور مزاحمت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا کی رائے عامہ، خطے کی اقوام حتیٰ کہ حکمرانوں پر بھی واضح ہو چکا ہے کہ امریکی افواج کی موجودگی اور ان کے فوجی اڈے ہی خطے میں بدامنی کی سب سے بڑی وجہ ہیں، اور امریکا اپنے اڈوں کی حفاظت تک کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ خلیج فارس کا روشن مستقبل امریکا کے بغیر ہوگا اور یہ مستقبل خطے کے عوام کی ترقی، سکون اور خوشحالی کے لیے ہوگا۔

رہبر انقلاب نے کہا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں مشترکہ تقدیر رکھتا ہے، جبکہ ہزاروں کلومیٹر دور سے آنے والی طاقتوں کا یہاں کوئی مقام نہیں، سوائے سمندر کی گہرائیوں میں غرق ہونے کے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم کی بیداری اور مزاحمتی جذبہ صرف عوام تک محدود نہیں بلکہ ملک کے تمام سائنسی، صنعتی، تکنیکی، ایٹمی، نینو، بایو اور دفاعی وسائل کو قومی سرمایہ سمجھا جاتا ہے اور قوم ان کی اسی طرح حفاظت کرے گی جیسے اپنی زمینی، فضائی اور بحری سرحدوں کی کرتی ہے۔

رہبر انقلاب نے آخر میں کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر نئے انتظامی اور قانونی قواعد نافذ کرے گا، جس سے پورے خطے کی اقوام کو امن، ترقی اور معاشی فوائد حاصل ہوں گے اور ان شاء اللہ عوام کے دل خوش ہوں گے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *