
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے دنیا کے دیگر ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے اس کی مدد کریں، جبکہ خود امریکی دعووں کے مطابق وہ اس آبی گزرگاہ پر دباؤ اور کنٹرول کی کوشش کر رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی محکمہ خارجہ کی ایک سفارتی یادداشت کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے مختلف ممالک سے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت بحال کرنے میں کردار ادا کریں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل، ایندھن کی سپلائی چین اور پیٹروکیمیکل و کھاد جیسی اہم اشیاء کی ترسیل میں بھی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس گزرگاہ میں پیدا ہونے والی رکاوٹ نے عالمی منڈیوں اور توانائی کے نظام پر بھی اثر ڈالا ہے، جس کے بعد امریکہ نے دیگر ممالک سے سفارتی مدد طلب کی ہے تاکہ اس اہم بحری راستے میں استحکام بحال کیا جا سکے۔
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ اگر پائیدار جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو وہ بین الاقوامی پروٹوکولز اور سکیورٹی اصولوں کی پاسداری کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہے۔
