عدالت نے انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق قانون 1993 کی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن کا دائرہ زندگی، آزادی، مساوات اور وقار سے جڑے معاملات تک محدود ہے۔ ایسے میں مدارس کی انتظامی یا مالی بے ضابطگیوں کی جانچ کا حکم دینا بادی النظر میں اس دائرے سے باہر معلوم ہوتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے معاملات کو عوامی مفاد کی عرضی کے ذریعے ہائی کورٹ کے سامنے پیش کیا جا سکتا تھا، جہاں مناسب قانونی جانچ ممکن ہے۔
دوسری جانب، بنچ کے دوسرے جج نے ان ریمارکس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ جب کسی فریق کو سنے بغیر اس کے کردار پر منفی تبصرہ کیا جائے تو یہ مناسب نہیں ہوتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ عدالت کسی فریق کی عدم موجودگی میں بھی حکم جاری کر سکتی ہے، مگر اس نوعیت کے تبصرے کرنے سے قبل تمام متعلقہ فریقین کو سنا جانا چاہیے تھا۔
