یمن ایران کے خلاف حملے پر خاموش نہیں رہے گا، عبدالملک الحوثی 

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمن کی انصاراللہ تحریک کے رہنما سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے معاملے میں یمن غیر جانبدار نہیں رہے گا اور اگر یہ حملے دوبارہ شروع ہوئے تو ان کا جواب پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ دیا جائے گا۔

المسیرہ کے مطابق انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور میں عالمی سطح پر جارح قوتوں کی یلغار ایک نہایت خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور “دہشت گردی کے خلاف جنگ” جیسے عنوانات محض دھوکہ دینے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

الحوثی کے مطابق دشمن قوتیں امت مسلمہ کو گمراہ کرنے اور اپنی جارحیت کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم اگر مسلمان اپنے اصولوں پر قائم رہیں تو کامیابی ان کا مقدر ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور اس کے اتحادی امت کو خاموش کرنا چاہتے ہیں تاکہ کوئی بھی ان کے جرائم کے خلاف آواز نہ اٹھا سکے، جبکہ میڈیا کے ذریعے مایوسی پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطین میں جاری کارروائیوں کے دوران انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کہاں ہیں؟ جبکہ ہر آدھے گھنٹے میں ایک فلسطینی خاتون کو قتل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض قوتیں غزہ کی مزاحمت کو کمزور ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جبکہ دشمن کی طاقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔

الحوثی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے حامی میڈیا ہر اس آواز کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کے خلاف ہو اور اسے “ایران کی نمائندگی” کا نام دے کر بدنام کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور اس کے اتحادی نہ صرف فلسطین بلکہ دیگر عرب ممالک میں بھی قتل و غارت اور تباہی پھیلا رہے ہیں، اور مقدس مقامات بھی ان کے اہداف میں شامل ہیں۔

انصاراللہ کے رہنما نے ایران کے مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک باوقار اور قابل احترام موقف ہے جسے امت کے اتحاد کا ذریعہ بننا چاہیے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ماضی میں انہیں یورپی ممالک کی جانب سے پیشکش کی گئی تھی کہ وہ اپنے نعرے سے دستبردار ہو جائیں تو انہیں حکومت میں حصہ دیا جائے گا، تاہم انہوں نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔

انہوں نے خلیجی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض ممالک نے اسرائیل کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں، جس سے خطے میں اس کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔

الحوثی نے کہا کہ دشمن ایران کو ختم کرنا چاہتا ہے تاکہ عرب دنیا پر مکمل قبضہ کر سکے، اور یہ خطرہ تمام ممالک کے لیے مشترکہ ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ جنگ بندی کمزور ہے اور کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے، جبکہ اگر کشیدگی بڑھی تو یمن بھی اپنی کارروائیاں تیز کرے گا۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ امت کی بیداری، اتحاد اور ذمہ داری کا احساس ہی اسے طاقتور بنا سکتا ہے اور بالآخر کامیابی حق کے ساتھ ہوگی۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *