گجرات کے شہر احمدآباد کے چاندکھیڑا علاقہ میں ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں بازار سے خریدے گئے ڈوسہ بیٹر سے تیار کردہ دوسہ کھانے کے بعد دو کمسن بچیوں کی موت واقع ہو گئی، جبکہ والدین کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق خاندان نے دو دن قبل گھن شیام ڈیری سے ڈوسہ بیٹر خریدا تھا۔ شام کے وقت اس بیٹر سے ڈوسے تیار کر کے کھائے گئے، تاہم اگلی صبح اچانک تمام افراد کی طبیعت بگڑ گئی اور قے شروع ہو گئی۔
متاثرہ خاندان کے افراد کے مطابق قے کے بعد حالت مزید خراب ہوتی گئی، جس پر انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ علاج کے دوران 3 ماہ کی بچی راہا اور 4 سالہ مشری دم توڑ گئیں، جبکہ والدین بھاونا پراجاپتی اور ومل پراجاپتی کی حالت نازک ہے اور انہیں ایک پرائیویٹ اسپتال میں زیر علاج رکھا گیا ہے۔
چاندکھیڑا پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ احمد آباد میونسپل کارپوریشن کے محکمہ خوراک کے افسر ڈاکٹر تیجس شاہ کے مطابق بیٹر کے معیار کی جانچ کی جا رہی ہے اور واقعہ کی اصل وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ڈیری کے مالک کیتن پٹیل نے بتایا کہ متاثرہ خاتون اور ان کے شوہر شام کے وقت بیٹر خریدنے آئے تھے، اور اسی بیٹر کو دیگر صارفین اور اپنے رشتہ داروں کو بھی دیا گیا تھا، تاہم کسی اور کو کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ تقریباً 100 سے 125 کلو بیٹر فروخت کیا جاتا ہے اور یہیں تیار کیا جاتا ہے۔
ڈیری کے ایک اور مالک وپل پٹیل نے بتایا کہ متاثرہ خاندان نے یکم اپریل کو تقریباً تین کلو بیٹر خریدا تھا اور 3 اپریل کو شکایت لے کر واپس آئے کہ اس سے فوڈ پوائزننگ ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا اور دیگر گاہکوں سے بھی رابطہ کیا، لیکن کسی اور نے ایسی شکایت نہیں کی۔
وپل پٹیل کے مطابق ہم نے تمام گاہکوں سے دریافت کیا کہ کیا کسی کو کوئی مسئلہ پیش آیا، مگر سب نے انکار کیا۔ اگر بیٹر میں خرابی ہوتی تو دیگر افراد بھی متاثر ہوتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شکایت کے بعد انہوں نے سی سی ٹی وی ریکارڈنگ محفوظ کر لی ہے تاکہ حقیقت واضح کی جا سکے۔ ان کے مطابق متاثرہ خاتون خود شکایت لے کر آئی تھیں اور اس وقت کی آواز اور ویڈیو ریکارڈنگ بھی موجود ہے، جس میں انہوں نے پیٹ میں درد اور فوڈ پوائزننگ کی شکایت کی تھی۔۔
حکام کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور حتمی رپورٹ کے بعد ہی واقعہ کی اصل وجہ سامنے آئے گی۔
