*دین اسلام میں انسانیت کی سلامتی اور آپسی بھائی چارے کا ہیغام دیا جاتا ہے* اچاریہ دھرمیندر کمار تیواری *

*دین اسلام میں انسانیت کی سلامتی اور آپسی بھائی چارے کا ہیغام دیا جاتا ہے* اچاریہ دھرمیندر کمار تیواری

*اسلام اور سکھ مذہب میں بہت ساری مماثلت پائی جاتی ہے* دلجیت سنگھ
*ہندوستان کی سرزمین بین المذاھب مذاکرہ کا بہترین پلیٹ فارم ہے* ڈاکٹر حکیم الہی
*یہ اسٹیج ہندوستان کی تہذیب کی جیتی جاگتی تصویر ہے*
شاہ مصباح الحق عمادی
*دین اسلام انسانیت کی حفاظت کا دین ہے*پروفیسر حسین احمد
*حکومت کے ساتھ رحمدلی حکمرانی کا اصلی مذہب ہے* مولانا اشرف الغروی
پٹنہ کے مدرسہ سلیمانیہ میں ایک ہی اسٹیج پر دکھائی دیا ہندوستان کا نمایاں چہرہ

*رسول خداصلعم کی 1500سالہ ولادت کی مناسبت سے بین الاقوامی سیمینار
میں مختلف ادیان ومذاہب کے دانشور دکھائی دیے

*شیعہ سماج کی طرف سے پنجاب کے سیلاب زدہ لوگوں کی ۔دد کے لیے دیا گیا ایک لاکھ روپے کا چیک*
پٹنہ اسٹاف رپورٹر، پٹنہ سٹی محبان ام الائمہ علیہم السلام تعلیمی و فلاحی ٹرسٹ کے نشرو اشاعت سکریٹری یعقوب جوفری نے بتایا ہے کہ ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی ولادت باسعادت کے
1️⃣5️⃣0️⃣0️⃣
سال مکمل ہونے کے موقع پر 13دسمبر کو پٹنہ کے مدرسہ سلیمانیہ میں ایک تاریخ ساز اور عہد آفریں منظر اس وقت دکھائی دیا جب کل ہند بین المذاہب سیمینار
*سیرت مصطفی کے انسانی نقوش*
بین الاقوامی سیمینار میں تبدیل ہو گیا ۔ملک و بیرون ملک کے علما ودانشوران کی حاضری اور مجازی شرکت نے پروگرام کی رونق میں چار چاند لگا دیا ۔ ایسا بہت کم دکھائی دیتاہے کہ کسی بھی پروگرام میں مدعو شخصیات میں سے سب کے سب تشریف لے آئیں لیکن رسول خدا صلعم سے محبت کی جاذبیت نے ہر ایک کو اپنی طرف مقناطیسی کیفیت میں کھنچتے ہوئے ہر ایک کو تسبیح کے دانوں کی طرح ایک دھاگہ میں پرو دیا۔ اس طرح کےپروگرام کا اسٹیج اپنے آپ میں ایک عظیم ہندوستان کی تصویر پیش کر تا ہے
یہ نہایت اہم تحریک اس وقت کامیاب ہوئ جب محبان ام الائمہ علیہم السلام تعلیمی و فلاحی ٹرسٹ کے بانی صدر مولانا مراد رضا صاحب کی تحریک پر شہر کی ایک اہم انجمن ،انجمں پنجتنی رجسٹرڈ نے اس سیمینار کا بیڑا اٹھایا جس کا تعاؤن شہر کی ہر انجمن اور ثقافتی ادارہ نے کیا۔
پروگرام اپنے مقررہ وقت پر محمد افہام عباس صاحب کی تلاوت سے شروع ہو گیا اور پروگرام کی اہمیت اور نزاکت کو سمجھتے ہوے مولانا مراد رضا نے نظامت کے فرائض خود انجام دیے اور تلاوت کے بعد ایک کمسن نعت خوان منتظر حیدر نے سامعین کے دل کو جیت لیا
اس موقع پر مولانا امانت حسین نے چندر بھان خیال کی کتاب لولاک کا تعارفی خاکہ پیش کیا جس میں حضور اکرم صلعم کی شان میں 750 اشعار نظم کیے گئے ہیں
اس سیمینار میں ہندوستان میں امام خامنہ ای کے نمائندے ڈاکٹر حکیم الہی کا پیغام بھی پڑھا گیا مولانا زکریا صاحب اس پیغام کی قرات کرتے ہوے بتایا کہ امام خامنہ کی نگاہ میں ہندوستان وہ بہترین جگہ ہے جہاں اس قسم کے بین المذاھب پروگرام کی بہت اہم ضرورت ہے تاکہ سب ایک دوسرے کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھیں اور جو دین سب سے اچھا ہے اسے سب مل جل کے قبول کر لیں تاکہ سماج ومعاشرت سے ظلم کا خاتمہ ہو۔
حوزہ علمیہ قم کے استاداور قم یونیورسٹی کے پروفیسر آیت اللہ احمد عابدی نے اپنے صوتی پیغام میں آنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوے صاف طور پر کہا کہ اس قسم کے پروگرام کی اس لیے بھی ضرورت ہے کہ اس وقت کی جھلستی دنیا میں رسول رحمت کا کردار ہی آگ کو بجھانے کا سبب ہے حضرتِ محمدصلعم کی تعلیم میں اگر کوئی ایک بلی کو بھی اذیت پہنچانے تو وہ جہنمی ہے جنگوں میں اگر کوئی درخت کاٹے یا بچوں کو قتل کرے تو ناقابل معافی مجرم ہے اگر کوئی مسلمان کسی غیر مسلم کو بے گناہ قتل کردے تو میں خدا کا رسول اس غیر ۔سلم کی طرف سے اس قاتل مسلمان کو جہنم واصل کرنے کی اللہ سے درخواست کروں گا
ہندوستانی تہذیب سے سرشار اس سیمینار میں بہرائچ سے اے گلشن پاٹھک پنڈت نے رسول خدا صلعم کی شان میں نعت پڑھ کر سارے مجمعے کو جھوم کر داد دینے پر مجبور کردیا۔
امروہہ سے تشریف لائے پنڈت بھون شرما نے اپنے نعتیہ کلام سے سامعین کے دل کو موہ لیا
اہل سنت شاعر نصیر انصاری بارہ بنکوی کی نعتیہ شاعری پر ہر ایک نے دل کھول کر داد وتحسین سے نوازا
کسی بھی پروگرام میں بہت مشکل سے شرکت کرنے والے حضرت مولانا شاہ مصباح الحق عمادی سجادہ نشین خانقاہ عمادیہ کی تقریر سے تو ملکوتی ماحول قائم ہو گیا انہوں نے کہا:اس سیمینار نے ہر مکتب فک کو ایک اسٹیج پر لاکر جمع کر دیا ہے اور یہی وہ سیرت رسول صلعم کے انسانی نقوش ہیں جس کی ترویج کی آج بہت ضرورت ہے جب سب سر جوڑ کربیٹھیں گے تو ایک باغ بنے گا جس سے پھولوں کا گلدستہ سجایا جاے گا اور اس سے انسانیت کے نشان معطر ہوں گے
گرو گوبند سنگھ جی کے گرودوارہ سے تشریف لائے دل جیت سنگھ جی نے مسلمانوں اور سکھوں کی مماثلت پر بہترین تقریر کرتے ہوے کہا کہ سکھ سماج کا بنیادی دستور خدمت خلق اور مظلوموں کی حمایت ہے دین اسلام کے بھی یہی تعلیمات ہیں آج اس سیمینار میں شیعہ سماج کی طرف سے جو پنجاب کے سیلاب زدہ انسانوں کی مدد کے لے ایک لاکھ روپے کی رقم ہدیہ کی گئی وہ اسی بات کی علامت ہے کہ اصلی مذہب انسانیت کی حفاظت اور خلق خدا کی خدمت ہے ۔
انجینئر رضی الحسن اعظمی نے سیرت رسول خدا صلعم اور ان سے محبت کی اصلی پہچان آل محمد سے محبت کو پیش کیا اور کلمہ لا آلہ الا اللہ کو دنیا میں علم و حکمت کا سرمایہ قرار دیا
المراد آباد کے امام جمعہ اور مختلف کتابوں کے محقق اور تذکرہ نگار مولانا شہوار نقوی امروہوی نے سیرت رسول کے انمٹ نقوش پر تبادلہ خیال کرتے ہوے اسی سیرت پر عمل کو ذریعہ نجات قرار دیا
اتحاد بین المسلمین کی تحریک کے ایک اہم نقیب ہندو مسلم بھائی چارہ کے ایک بہترین خدمت گزار حضرت مولانا شاہ سید حسین احمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ درگاہ دیوان شاہ ارزانی نے سیرت رسول خدا میں انسانیت کے انمٹ نقوش کی طرف جو توجہ دلائی وہ سنہرے حرفوں سے لکھے جانے لائق ہے آپ نے بتایا کہ سیرت مصطفی صلعم میں زبان سے زیادہ کردار سے تبلیغ۔ کی اہمیت ہے اور آج یہ سارے لوگ جو جمع ہوے ہیں وہ ختمی مرتبت کے کردار سے متاثر ہونے کی وجہ سے ہی یہاں جمع ہوے ہیں
اچاریہ پروفیسر دھرمیندر کمار تیواری سابق وائس چانسلر ویر کنور سنگھ آرہ نے جب اپنی تقریر شروع کی تو ایسا لگ رہا تھا کہ ایک عارف رسول رطب اللسان ہیں
انہوں نے کہا کہ نفرت مٹانے کے لیے محبت کے پھول بکھیرنے کی ضرورت ہے ۔نفرت کا رونا رونے سے یا نفرت سے نفرت کو مٹانے کی کوشش سے نفرت نہیں مٹے گی۔ آپ محبت کی لکیر کو اتنا طویل کر دیجیے کہ نفرت کی لکیر خود بخود باؤنی ہو جاے ۔اسلام تو سلامتی کا دین ہے ایسی سلامتی جو سارے جگ کی سلامتی چاہتا جو ظالم سے نہیں ظلم سے مریض سے نہیں مرض سے دشمنی کرتا ہے ۔اسلام پر عمل کرنے والوں کا نام آگ بجھانے والوں میں لیا جاتا ہے اگ لگانے والوں میں نہیں
اگر آگ سے بچنا ہے تو آگ کو بجھانے کی کوشش کرنا ہوگی
اچاریہ پروفیسر دھرمیندر کمار اس سیمینار سے اتنا متاثر ہوئے کہ انہوں نے صرف ایک گھنٹے کا وقت دیا تھا چونکہ ان کو گیا جانا تھا اور وہ گیا سے ہی تشریف لائے تھے لیکن مسلسل چار گھنٹے تک وہ سیمینار میں بیٹھے رہے
اپنی تقریر کے درمیان ڈاکٹر دھرمیندر کمار اتنا زیادہ جذباتی ہوے کہ مولانا مراد رضا کو انہوں نے گلے سے چمٹا لیا
آخر میں سیمینار کے صدر حضرت آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی کے نمائیندے حجہ الاسلام والمسلمین اقاے سید اشرف الغروی نے اپنے بیان میں سب کو آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی کا سلام پہنچایا اور آنجناب کی طرف سے ایسے سیمینار کی ضرورت پر زور دیتے ہوے کہا کہ سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں انسانیت کے نقوش کی ترویج اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر انسانیت نہ ہو تو دنیا جنگل راج بن جاے گی حکومت میں طاقت کے ساتھ ہمدردی حکومت کا سب سے بڑا مذہب ہے اگر حاکم ایسا درندہ ہو جاے جو اپنی رعیت کو لقمہ تر سمجھ کر چٹ کرنا چاہے تو پھر ملک کاسماجی نظام افرا تفری کا شکار ہو جاے گا اس لیے انسانی اقدار کی ترویج نہایت اہم ہے

اس طرح یہ سیمینار نصف شب کے بعد اختتام پذیر ہوا اور طعام نوش فرما حاضرین تشریف لے گئے
یوں تو اس سیمینار میں ہر مذہب وملت کے لوگوں نے شرکت لیکن
مختلف علاقوں کی امن وامان کمیٹی کے ذمہ داروں نے بھی بھر پور شرکت فرمائی
جس میں سنجے مالا کار
عالم گنج پیس کمیٹی
محمد جاوید عالم سابق کونسلر ،محمد رفیق
ممبر پیس کمیٹی عالم گنج ہدایت احمد
پیس کمیٹی خواجہ کلاں وارڈ نمبر 60کے کونسلر بلرام چودھری کے نام بہت اہم ہیں ۔
شیعہ علماء کرام میں مولانا اسد رضا ، مولانا نذر علی ، مولانا دلبر رضا،مولانا معراج مہدی امام جمعہ۔ بھیکپور، مولانا ارشد عباس امام جمعہ اجودھیا، کے علاؤہ اور دیگر عمائدین شہر نے بھی شرکت فرمائی
واضح رہے کہ یہ پروگرام یوں تو 22اداروں کی طرف سے مل جل کر منعقد ہوا تھا لیکن انجمن پنجتنی رجسٹرڈ اور محبان ام الائمہ علیہم السلام تعلیمی و فلاحی ٹرسٹ کے ذمہ داروں نے بڑی جانفشانی کے ساتھ اس پروگرام میں چار چاند لگایا بالخصوص انجمن کے جنرل سکریٹری سید علی امام ، صدر سید تنویر الحسن خاں اور نائب صدر پروفیسر مرزا عباس کی جانفشانی نا قابل فراموش ہے ان سب افراد اور شہر کے مختلف لوگوں کی زبان پر یہ جملہ سننے میں آیا کہ مولانا مراد رضا کی تحریک محبت اور اس سیمینار میں ان کی حکمت عملی سے ہی یہ سیمینار اتنا زیادہ کا میاب ہو سکا ہے اس لیے تمام لوگوں نے بیک زبان مولانا موصوف کو دعائیں دی ہیں
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس پروگرام میں
چند بھان خیال کی کتاب لالوک ، بھون امروہوی کی کتاب عقیدت کے پھول
ڈاکٹر دھر۔یند ناتھ کی کتاب ہمارے رسول جس میں چار سو سے زیادہ ہندو شعرا کے نعتیہ کلام موجود ہیں
مولانا مراد رضا کی دو کتاب
آمنہ مادر رسالت اور پیغمبر رحمت کی رسم اجرا بھی ادا کی گئی ہے۔
شہر کی انتظامیہ نے پروگرام کے پر امن انعقاد کے لیے پولیس کے عملہ کو تعینات رکھا جس کے لیے پروگرام کے بانیان نے انتظامیہ کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے
اسی طرح
سوشل میڈیا ،ڈیجیٹل اور الیکٹرانک میڈیا اور سب سے اہم پرنٹ میڈیا کا بھی تہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *