یو اے ای کا تاریخی فیصلہ — دو سال میں آدھی حکومت اے آئی کے حوالے، دنیا میں نئی طرزِ حکمرانی کی شروعات

متحدہ عرب امارات کے صدر کی ہدایات کے تحت حکومت نے ایک نیا گورننس ماڈل متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے مطابق اگلے دو سالوں یعنی 2028میں سرکاری شعبوں، خدمات اور آپریشنز کا 50 فیصد حصہ “ایجنٹک اے آئی” کے ذریعے چلایا جائے گا، جس سے یو اے ای دنیا کی پہلی حکومت بن جائے گی جو اس پیمانے پر خودکار نظاموں کے ذریعے کام کرے گی۔

 

اعلان میں کہا گیا ہے کہ اب اے آئی صرف ایک ٹول نہیں رہا بلکہ یہ تجزیہ کرے گا، فیصلے کرے گا، انہیں نافذ کرے گا اور حقیقی وقت میں نظام کو بہتر بھی بنائے گا۔ اسے حکومت کا ایک “ایگزیکٹو پارٹنر” بنایا جا رہا ہے تاکہ خدمات کو بہتر، فیصلوں کو تیز اور کارکردگی کو مؤثر بنایا جا سکے۔

 

اس تبدیلی کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کی گئی ہے، اور دو سال کے اندر پورے سرکاری نظام کی کارکردگی کا معیار اس بنیاد پر ہوگا کہ اے آئی کو کتنی تیزی سے اپنایا گیا، اس کا نفاذ کتنا مؤثر رہا اور حکومتی نظام میں کتنی بہتری آئی۔

 

حکومت نے اپنے ملازمین کی تربیت پر بھی بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، اور ہر وفاقی ملازم کو اے آئی کی مہارت حاصل کرنے کی تربیت دی جائے گی تاکہ ایک مضبوط اے آئی پر مبنی انتظامی نظام تشکیل دیا جا سکے۔

 

اس منصوبے کی نگرانی شیخ منصور بن زاید کریں گے، جبکہ اس پر عملدرآمد کے لیے محمد القرقاوی کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے۔

 

اعلان میں کہا گیا ہے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور ٹیکنالوجی آگے بڑھ رہی ہے، تاہم حکومت کا بنیادی اصول انسان کو مرکز میں رکھنا ہے۔ مقصد ایک ایسا نظام ہے جو زیادہ تیز، زیادہ مؤثر اور زیادہ نتیجہ خیز ہو۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *