ہگلی میں انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ ملک میں 2 نظریات کے درمیان لڑائی جاری ہے… ایک طرف آئین، اتحاد اور بھائی چارے کی سیاست ہے، جبکہ دوسری طرف نفرت اور تقسیم کی سیاست ہے۔


i
مغربی بنگال میں پہلے مرحلہ کی پولنگ 23 اپریل کو ہو چکی ہے، اور اب 29 اپریل کو ہونے والی دوسرے مرحلہ کی پولنگ کے لیے سیاسی تقاریب کا سلسلہ عروج پر ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی آج مغربی بنگال کے 3 اہم شہروں میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ انھوں نے آج کولکاتا، جنوبی 24 پرگنہ اور ہگلی میں منعقدہ جلسۂ عام کے دوران مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت دونوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے بی جے پی-ٹی ایم سی پر عوامی مسائل کو نظر انداز کرنے اور صرف اقتدار کی سیاست کرنے کا سنگین الزام عائد کیا۔
جنوبی 24 پرگنہ میں اپنے خطاب کے دوران راہل گاندھی نے مقامی ریڈی میڈ صنعت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس صنعت سے وابستہ افراد کو نہ ریاستی حکومت سے مدد ملی اور نہ ہی مرکزی حکومت سے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی آواز پارلیمنٹ تک پہنچانے کے لیے ان کا ساتھ دیں۔ اس موقع پر انہوں نے علامتی انداز میں کہا کہ اگر یہاں کے لوگ ان کے لیے ایک سفید ٹی شرٹ تیار کریں تو وہ اسے پہن کر لوک سبھا میں ان کی نمائندگی کریں گے۔
کولکاتا میں جلسے کے دوران راہل گاندھی نے تاریخی شخصیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’سبھاش چندر بوس، مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل جیسے رہنما کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکے۔ وزیر اعظم نریندر مودی خود کو طاقتور رہنما کے طور پر پیش تو کرتے ہیں، لیکن عالمی سطح پر کمزور موقف اختیار کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بی جے پی کو صرف کانگریس ہی شکست دے سکتی ہے کیونکہ کانگریس ایک نظریاتی پارٹی ہے اور وہ بی جے پی سے کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
راہل گاندھی نے اپنی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ملک کو متحد کرنا تھا، جبکہ ان کے مطابق موجودہ حکومت کی پالیسیاں تقسیم پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے خلاف درج مقدمات اور ای ڈی کی پوچھ گچھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا کہ دیگر سیاسی رہنماؤں کے خلاف اسی طرح کی کارروائیاں کیوں نہیں ہوتیں۔
ہگلی میں خطاب کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ ملک میں 2 نظریات کے درمیان لڑائی جاری ہے… ایک طرف آئین، اتحاد اور بھائی چارے کی سیاست ہے، جبکہ دوسری طرف نفرت اور تقسیم کی سیاست۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے معاشی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے فیصلوں نے چھوٹے تاجروں اور متوسط صنعتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ حکومت کی پالیسیوں کا فائدہ چند بڑے صنعت کاروں کو پہنچ رہا ہے جبکہ عام عوام اور نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں۔
راہل گاندھی نے مغربی بنگال کی ممتا بنرجی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاست میں صنعتوں کا زوال ہوا ہے اور روزگار کے مواقع کم ہوئے ہیں۔ انہوں نے مختلف مبینہ گھوٹالوں اور بدعنوانی کے معاملات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں شفافیت اور جوابدہی کا فقدان ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ مغربی بنگال میں بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے اور لاکھوں نوجوان روزگار کے لیے درخواستیں دے رہے ہیں، لیکن انہیں مواقع نہیں مل رہے۔ راہل گاندھی کے مطابق، مرکزی اور ریاستی دونوں ہی حکومتیں عوامی مسائل کے حل کے بجائے سیاسی مفادات کو ترجیح دے رہی ہیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئندہ انتخابات میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں اور ایسی قیادت کا انتخاب کریں جو ترقی، روزگار اور اتحاد کو فروغ دے سکے۔ ایک موقع پر انھوں نے کہا کہ جس طرح بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ و اراکین اسمبلی خواتین پر مظالم کرتے ہیں اور بی جے پی حکومت ان کو تحفظ فراہم کرتی ہے، اسی طرح مغربی بنگال میں بھی حکومت ملزمین کو بچاتی ہے۔ اس تعلق سے راہل گاندھی نے آر جی کر عصمت دری و قتل کیس کی مثال لوگوں کے سامنے رکھی۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ اس طرح کے معاملوں میں کوئی جوابدہی نہیں ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
