عثمانیہ یونیورسٹی کے ترقیاتی کاموں میں طلبہ کی رائے کو اولین ترجیح: وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی
حیدرآباد: وزیر اعلیٰ اے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی میں مجوزہ ترقیاتی کاموں میں طلبہ اور تدریسی عملے کی رائے کو سب سے اہم قرار دیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے جمعہ کو کیمپ آفس میں یونیورسٹی کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا اور افسران سے مختلف ماڈلز کی تفصیلات حاصل کیں۔
وزیر اعلیٰ نے ہاسٹلز، سڑکوں، تعلیمی بلاکس اور آڈیٹوریم سے متعلق کئی تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے ہدایت دی کہ یونیورسٹی کے جنگلاتی حصوں کی ترقی کے لیے ’’اربن فاریسٹری‘‘ فنڈز استعمال کرنے پر غور کیا جائے۔ موجودہ آبی ذخائر کے تحفظ اور نئے واٹر ریسورسز کے قیام کی تجاویز پر بھی بات ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ہاسٹل اور اکیڈمک عمارتوں میں طلبہ کی گنجائش موجود تعداد سے 10 فیصد زیادہ رکھی جائے تاکہ مستقبل میں سہولت رہے۔ تاریخی ورثہ عمارتوں کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ غیر اہم پرانی عمارتوں پر بھاری خرچ کے بجائے نئی عمارتیں تعمیر کی جائیں۔
سائیکل ٹریکس، واکنگ پاتھس اور بنیادی سہولتوں کے معیار کو بہتر بنانے کی بھی ہدایت دی گئی۔ عثمانیہ طلبہ کی تحریک اور جدوجہد کی علامت کے طور پر مناسب نشانیوں کی تنصیب کی تجویز بھی سامنے آئی۔
وزیر اعلیٰ 10 تاریخ کو عثمانیہ یونیورسٹی کا دورہ کریں گے، جہاں وہ ہاسٹلز اور اکیڈمک بلاکس کا معائنہ کریں گے۔ طلبہ کی رائے حاصل کرنے کے لیے ماڈلز پیش کیے جائیں گے، ڈراپ باکس رکھے جائیں گے اور ایک خصوصی ویب سائٹ بھی قائم کی جائے گی۔ موصولہ تجاویز کی بنیاد پر ماہ کے آخر تک حتمی منصوبہ طے کیا جائے گا۔
جائزہ اجلاس میں مشیر وی۔ نریندر ریڈی، مشیر کیشو راؤ، سی ایم او کے خصوصی سکریٹری اجیت ریڈی، سکریٹری تعلیم یوگیتا رانا، کمشنر سری دیواسینا، وائس چانسلر پروفیسر مولگارم کمار، آرٹس کالج کے پرنسپل پروفیسر قاسم اور دیگر افسران شریک تھے۔
