
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارانوت کے معروف تجزیہ کار آوی یسخاروف نے اعتراف کیا ہے کہ دو سالہ جنگ اور شدید حملوں کے باوجود، وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت حماس کو نہ ختم کر سکی اور نہ ہی اقتدار سے ہٹا پائی۔
انہوں نے کہا کہ حماس نے بطور ایک منظم اور مؤثر حکومتی طاقت غزہ میں اپنی پوزیشن مستحکم رکھی ہے۔ جنگ بندی کے بعد حماس کے مسلح کارکن غزہ کی سڑکوں پر موجود ہیں، اپنے چہرے ڈھانپے، ہتھیاروں کے ساتھ اپنی حکومتی طاقت اور کنٹرول کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
آوی یسخاروف کے مطابق، یہ وہ زمینی حقیقت ہے جسے اب اسرائیل تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔
