اس کے علاوہ ارگو ضلع کے گورنر عبدالکبیر نظامی کو ایک جھڑپ کے بعد گرفتار کرلیا گیا ہے اور اب وہ ایک جیل میں ہیں۔ وہیں ایک اور بااثر شخص عبدالرحمان عمار کو بھی گرفتار کیا گیا کیونکہ انہوں نے باہری طالبان اور کمپنیوں کی مخالفت کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہاں چین کی مدد سے 24 گھنٹے کان کنی ہورہی ہے۔ اس سلسلے میں ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ صرف انتظامی معاملہ نہیں ہے بلکہ طالبان کے اندر پیسہ اور طاقت کی لڑائی ہے۔ قندھار کی قیادت کانوں پر پورا کنٹرول چاہتی ہے جبکہ مقامی کمانڈر اسے اپنے اختیارار پر خطرہ مانتے ہیں۔ اس لئے بدخشاں اب صرف کانوں کا نہیں بلکہ اقتدار کی لڑائی کا بڑا مرکز بن گیا ہے۔
افغانستان کی سرنگیں اُگل رہیں سونا، طالبان نے کانکنی کے لیے لگائے تقریباً ایک لاکھ مزدور، تیزی سے کام جاری
