سیرت ایکسپو 2025 ہزاروں افراد کے دلوں کو چھو گئی – محمد اظہرالدین امیرحلقہ جماعت اسلامی ہند اور رکن اسمبلی احمد بن عبداللہ بلعلہ کے خطابات 

سیرت ایکسپو 2025 ہزاروں افراد کے دلوں کو چھو گئی

طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو تعمیری رخ دینا وقت کی ضرورت

 محمد اظہرالدین امیرحلقہ جماعت اسلامی ہند اور رکن اسمبلی احمد بن عبداللہ بلعلہ کے خطابات 

حیدرآباد، 5 ستمبر 2025 (پریس رپورٹ): حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نبوت کا شرف عطا ہوا تو انسانیت اپنی تاریخ کے تاریک ترین دور سے گزر رہی تھی؛ معاشرہ جہالت، ظلم، بت پرستی اور اخلاقی پستی کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ آپؐ نے توحید کی روشنی، عدل و انصاف کا پیغام اور اخوت و رحم دلی کی بنیاد پر اس بگڑی ہوئی انسانیت کو تباہی کے دلدل سے نکالا اور ایک پاکیزہ، صالح اور منظم سماج کی تشکیل کی۔

 

آج کی دنیا بھی اسی طرح کے گہرے بحرانوں سے دوچار ہے؛ طاقت پرستی، ظلم و جبر، اخلاقی زوال اور روحانی و فکری گمراہی نے انسان کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے نازک لمحے میں صرف سیرتِ نبویؐ ہی وہ سرچشمۂ ہدایت ہے جو اس تاریکی کو روشنی میں بدل سکتا ہے اور انسانیت کو حقیقی نجات کی راہ دکھا سکتا ہے۔

 

ان خیالات کا اظہار جناب محمد اظہرالدین، امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ، نے 12؍ ربیع الاول کو گرینڈ امپیریل فنکشن ہال، چادر گھاٹ میں منعقدہ سیرت ایکسپو 2025 کی افتتاحی تقریب سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس ایکسپو کا اہتمام جماعت اسلامی ہند، ملک پیٹ کی جانب سے کیا گیا تھا۔

 

مہمانِ خصوصی جناب محمد احمد بن عبداللہ بلعلہ، رکن اسمبلی ملک پیٹ، نے ایکسپو کا افتتاح کیا اور طلبہ کے تیار کردہ ماڈلز کا مشاہدہ کرنے کے بعد ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی نمائش کا اہتمام ہر اسکول میں ہونا چاہیے تاکہ نئی نسل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے قریب ہو۔

 

جناب محمد اظہرالدین نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ نئی نسل کا قیمتی وقت اسمارٹ فون کی لت کی نذر ہو رہا ہے اور ان کی صلاحیتیں ضائع ہو رہی ہیں، لیکن یہاں آکر یہ احساس ہوا کہ اگر ان صلاحیتوں کو درست رخ دیا جائے تو بچے نہ صرف سیرتِ طیبہ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے تخلیقی ماڈلز تیار کرسکتے ہیں بلکہ صلح حدیبیہ اور فتح مکہ جیسے تاریخِ اسلام کے سنہرے ابواب کی تشریح بھی کر سکتے ہیں۔ امیر حلقہ نے سرگرمی میں حصہ لینے والے طلبہ اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کی۔

 

قبل ازیں جناب محمد مجیب الاعلیٰ، امیر مقامی جماعت اسلامی ہند ملک پیٹ، نے اپنی افتتاحی تقریر میں مہمانوں اور وزیٹرس کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اس موقع پر ایکسپو کے تھیم ’’سیرت النبی ﷺ – عکسِ قرآن‘‘ کی وضاحت کی اور اس کی اہم خصوصیات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ملک پیٹ کے حدود میں واقع اسکولوں میں پہلی سے دسویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے سیرت کوئز اور دیگر مقابلے منعقد کیے گئے تھے، جن میں چھ ہزار سے زائد طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ ان میں سے نمایاں کارکردگی پر 600 طلبہ کو انعامات اور سرٹیفکیٹس سے نوازا گیا۔

ایکسپو کی نظامت کے فرائض جناب سید محمد عبدالقادر ناصر، کنوینر ایکسپو، نے انجام دیے۔ اس موقع پر شہ نشین پر جناب ابوالکرم مشتاق اطہر (جنرل سکریٹری جماعت اسلامی ہند تلنگانہ)، جناب مرزا اعظم بیگ (سٹی سکریٹری جماعت اسلامی ہند حیدرآباد)، جناب ابرار (معاون کارپوریٹر اعظم پورہ)، جناب ضیاء الرحمان صدیقی سلیم (معاون امیر مقامی)، ڈاکٹر رضا احمد خاں، جنیدالرحمان قادری (سکریٹریز) اور جناب محمد عبدالودود (معاون کنوینر ایکسپو) موجود تھے۔

اس ایکسپو میں ’’سیرت النبی ﷺ ۔ عکس قرآن ‘‘ کے موضوع پر نہایت دیدہ زیب اور پیغام آفریں چارٹس نصب کیے گئے تھے۔ شعبہ خواتین جماعت اسلامی ہند، ملک پیٹ ، گرلز اسلامک آرگنائزیشن (GIO) اور چلڈرن اسلامک سرکل (CIC) سے وابستہ طلبہ و طالبات نے اپنی غیر معمولی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے مکی و مدنی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر مبنی ماڈلز پیش کیے۔ یہ ماڈلز بعثت سے قبل کے عرب معاشرے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی 23 سالہ دعوتی جدوجہد سے برپا ہونے والے بے مثال انقلاب کی تصویر کشی کر رہے تھے۔ طلبہ کی پُراعتماد تشریحات نے مہمانوں کو چودہ سو سال قبل کے حالات سے روشناس کرایا۔

ایکسپو میں ایس آئی او ملک پیٹ کے کیڈر نے فنکشن ہال کے ایک گوشے میں سیرت النبی ﷺ پر مبنی واقعات کی ایک اے آئی سے تیار کردہ ڈاکیومنٹری بھی پیش کی، جس نے خواتین، طلبہ اور نوجوانوں کو خاص طور پر متاثر کیا۔اسی طرح سیرت پر برسر موقع کوئز اور دیگر مقابلوں نے حاضرین، خصوصاً نوجوانوں کی دلچسپی کو بڑھایا اور انہیں سیرت سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا قیمتی موقع فراہم کیا۔ اس موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بشمول انجینئرز، ڈاکٹرز، سماجی کارکنان، میڈیا نمائندگان، خواتین، طلبہ اور بزرگ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔

منتظمین کے مطابق یہ ایکسپو ہزاروں افراد کے دلوں کو چھو گئی اور ان کے ایمان و علم میں اضافہ کا باعث بنی۔ ایک منتظم نے کہا: ’’یہ ایکسپو محبتِ رسولؐ اور تعلق بالرسالت کے اظہار کا ایک متبادل ماڈل ہے، جو ہر طبقے کے لیے ایک عظیم پیغام لے کر آیا ہے۔‘‘

 

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *