
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شامی سرگرم کارکن شوق ابراہیم نے انکشاف کیا ہے کہ بشار الاسد کے زوال کے بعد سے اب تک جولانی کے دہشت گردوں کے حملوں میں 20 ہزار سے زائد علوی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک تقریباً 10 لاکھ علوی شہری بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ 50 ہزار سے زائد لاپتہ ہیں۔ ان کے مطابق جولانی گروہ علوی برادری کے خلاف سنگین جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، اور متعدد افراد کو صرف اپنی مذہبی وابستگی کی بنیاد پر سزائے موت دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق جولانی کے مسلح عناصر نے گزشتہ تین ماہ کے دوران دمشق کے مشرقی، جنوبی اور شمالی حصوں میں 9 سے زائد رہائشی علاقوں پر حملے تیز کر دیے ہیں۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد مختلف طبقات، خصوصاً علوی برادری کو ان علاقوں سے نکال کر اپنی خاندانوں کو وہاں آباد کرنا ہے۔
