ایک برس بیت گیا، لیکن سید حسن نصر اللہ کی شہادت کا زخم اب بھی مندمل نہ ہو سکا

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ کے سابق سیکریٹری جنرل شہید سید حسن نصراللہ کی شہادت کو ایک برس مکمل ہوگیا۔ اس موقع پر معروف صحافی اور مشرق وسطی کے امور کا تجزیہ نگار ریمنڈو اسکیاؤوونے نے ایک یادداشتی تحریر میں کہا ہے کہ نصراللہ کی شہادت محض ایک سیاسی رہنما کا قتل نہیں بلکہ پورے خطے کے خلاف ایک گہری سازش اور “ابدی زخم” ہے۔

اسکیاؤوونے کے مطابق، ایک سال قبل بزدلانہ اور دہشتگردانہ حملے میں نصراللہ کو شہید کیا گیا، حالانکہ وہ نہ صرف لبنان کی مزاحمتی تحریک کے قائد تھے بلکہ عوام کی آواز اور ریاستی حاکمیت کے محافظ بھی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قتل کوئی حادثہ نہیں بلکہ صہیونی پالیسی کا تسلسل ہے جو کئی دہائیوں سے عرب رہنماؤں کے جسمانی خاتمے اور خطے میں تباہی پھیلانے پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حسن نصراللہ محض سیاستدان نہیں بلکہ ایک ایسی ملت کے ترجمان تھے جو سر نہیں جھکاتی۔ اسی لیے اسرائیل نے انہیں نشانہ بنایا تاکہ پورے لبنان کو خوفزدہ کیا جائے، مگر اس کے برعکس ان کی شہادت نے مزاحمت کے جذبے کو اور مضبوط کردیا۔

ماہر تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایک بار پھر یہ ثابت کرچکا ہے کہ وہ نہ تو مکالمے پر یقین رکھتا ہے اور نہ انسانی جان کی حرمت پر۔ لیکن نصراللہ کی شہادت نے اجتماعی حافظے کو تقویت دی اور یہ واضح کردیا کہ ظلم کے خلاف جدوجہد کو نہ بم روک سکتے ہیں اور نہ ڈرون حملے۔

اسکیاؤوونے نے اپنی تحریر میں مزید کہا کہ آج، پہلی برسی پر لبنان غم کے ساتھ ساتھ فخر کے جذبات سے ان کا ذکر کر رہا ہے۔ ان کے بقول، نصراللہ آج بھی ان تمام لوگوں کے لیے چراغِ راہ ہیں جو عدل، آزادی اور ملتوں کی کرامت پر یقین رکھتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس دہشت گردی کے منصوبہ ساز اور کارندے ہمیشہ “دہشتگرد، بے شرم قاتل اور انسانیت کے دشمن” کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ اس کے برعکس لبنان اپنے شہید رہنما کی یاد کو ایک زندہ ورثے اور مزاحمت کے تسلسل میں تبدیل کر چکا ہے۔

یاد رہے کہ حزب اللہ کے سابق سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ کو ایک برس قبل صہیونی افواج نے دہشتگردانہ کارروائی میں نشانہ بنایا تھا جس کے بعد پورے خطے میں اسرائیل مخالف تحریکوں کے ارادے مزید مستحکم ہوئے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *