
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ نے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کو ارسال کردہ ایک خط میں واضح کیا کہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے کیے جانے والے دعوے کسی بھی طرح معتبر قانونی حیثیت نہیں رکھتے اور نہ ہی یہ اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 کے مطابق ہیں۔
انہوں نے خط میں موقف اپنایا کہ قرارداد 2231 کے تحت ایران پر عائد تمام سابقہ پابندیاں اور قراردادیں ختم ہو چکی ہیں۔ اس قرارداد میں کسی بھی ریاست کو یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ یکطرفہ طور پر اسے تبدیل یا دوبارہ نافذ کرے۔
امریکہ 2018 میں معاہدے سے باہر نکل چکا ہے، اس لیے اسے کسی بھی میکانزم کے استعمال کا حق نہیں۔
عراقچی نے یورپی ممالک کی جانب سے 28 اگست 2025 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کو بھی ناقابلِ قبول قرار دیا اور کہا کہ روس، چین اور دیگر ممالک نے بھی اس کی مخالفت کی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سلامتی کونسل کے فیصلوں کو چند ممالک کے سیاسی مقاصد کے تحت دوبارہ تحریر کرنے کی کوشش عالمی سفارتی نظام اور اقوام متحدہ کی ساکھ کے لیے خطرناک ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سلامتی کونسل کے فیصلوں کو چند ممالک کے سیاسی مقاصد کے تحت دوبارہ تحریر کرنے کی کوشش عالمی سفارتی نظام اور اقوام متحدہ کی ساکھ کے لیے خطرناک ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ 18 اکتوبر 2025 کے بعد تمام جوہری پابندیاں مستقل طور پر ختم ہو جائیں گی، انہیں دوبارہ زندہ کرنے کی کوئی بھی کوشش غیرقانونی اور ناقابل قبول ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران ہمیشہ مذاکرات اور سفارتکاری کے لیے تیار ہے، تاہم اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر سخت مؤقف اختیار کرے گا۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ ان غیرقانونی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کثیرالجہتی اصولوں پر قائم رہیں اور سلامتی کونسل کے فیصلوں کو سیاسی دباؤ کا شکار نہ ہونے دیں۔
