ان کی رہائی کی خبر ملتے ہی سماج وادی پارٹی کے کارکنوں میں زبردست جوش و خروش دیکھا جارہا ہے۔ پارٹی دفاتر اور مقامی سطح پر جشن کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ جیل کے باہر ڈھول نگاڑے اور پھول مالاؤں کے ساتھ کارکن صبح سے ہی منتظر ہیں۔
مقامی انتظامیہ نے کسی بھی ممکنہ ہنگامہ آرائی یا بدنظمی سے بچنے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔ جیل کے اطراف اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے حساس مقامات پر الرٹ بڑھا دیا گیا ہے۔
اعظم خان کی رہائی نہ صرف ان کے خاندان اور حامیوں کے لیے جذباتی لمحہ ہے بلکہ سیاسی اعتبار سے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ ان کی واپسی سے اتر پردیش کی سیاست میں نئی ہلچل مچ سکتی ہے۔
