مولوی علی حیدر فرشتہ کے بیانات پر ہنگامہ، علما اور عوام میں شدید برہمی مرکزی انجمن ماتمی گروہان نے بھی انکو متنازعہ مولوی قرار دیا
حیدرآباد: (اسٹاف رپورٹر)
مولوی علی حیدر فرشتہ کے حالیہ بیانات اور آڈیو کلپ نے شہر میں سخت ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک مجلس کے دوران فرشتہ نے عاشورہ جلوس اور خونیں ماتم کا مذاق اڑایا تھا جس پر عوام میں سخت برہمی پائی گئی۔ اس ردعمل کے بعد فرشتہ نے ایک آڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے نہ صرف خونیں ماتم کی تائید کی بلکہ یہ بھی کہا کہ تمام مراجع اس کی حمایت کرتے ہیں۔
ان کے اس بیان پر علما برہم ہوگئے اور کھلے الفاظ میں سوال اٹھایا کہ آخر فرشتہ کے پاس کس مرجع کا فتویٰ موجود ہے؟ کیا وہ آیت اللہ خامنہ ای یا آیت اللہ سیستانی کی تقلید میں ہیں یا پھر خود کو مجتہد قرار دیتے ہیں؟ بعض حلقوں میں یہ بھی سوال کیا جارہا ہے کہ کیا وہ صادق شیرازی کی تقلید کرتے ہیں یا ان کے نمائندہ کے طور پر حیدر آباد میں کام کر رہے ہیں۔
مرکزی انجمن ماتمی گروہان کے صدر نجف علی شوکت نے ایک بیان اور ویڈیو کے ذریعے فرشتہ کو “متنازعہ مولوی” قرار دیا اور نوجوانوں کو ان سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔ کئی مقامات پر انہیں مجالس پڑھنے سے روک دیا گیا ہے اور عوامی سطح پر علی حیدر فر شتہ کے خلاف ویڈیوز بھی وائرل ہورہی ہیں، اور لوگ خونیں ماتم کی حوصلہ افزائی کلیے انکو ماتمی جلوس میں دعوتِ دی جارہی ہے پر وہ شرکت سے گُریز کررہےہے ۔جس میں سید عابد نقوی منان اور دیگر شامل ہیں نجف علی شوکت نے ان کے ماضی کی کئی غلطیوں کو بھی پیش کرتے ہوئے کہا کہ فر شتہ مسلسل تنازع کھڑا کرتے ہیں۔ اب عوام اور علما دونوں یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا مجمعِ عُلماء و خطباء ان کے ساتھ کھڑا ہے یا اس متنازعہ شخصیت کی سرپرستی میں ہے؟جب کے مجلس علماء و ذاکرین صدر مولانا حیدر اغا مولانا شانِ حیدر اور دیگر نے انکے خلاف بیانات اور مجالس میں ذکر کیا۔کچھ لوگ اس مسئلے کو دبانے کی کوشش میں جس پر انجمنوں سے وابستہ ماتم دا ر انکو لفافہ لیکر خاموش ہونے والے کہکر کا لفافے خار پکار رہے ہیں
