نیٹ پیپر لیک معاملہ: یوتھ کانگریس اور این ایس یو آئی کا مودی حکومت پر سخت حملہ، وزیر تعلیم سے استعفیٰ کا مطالبہ

اودے بھانو چب نے بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’بی جے پی دعویٰ کرتی ہے نریندر مودی 2 ملکوں کے درمیان جنگ رکوا دیتے ہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ ’کمپرومائزڈ پی ایم‘ مودی پیپر لیک بھی نہیں رکوا پا رہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>گرافکس ’ایکس‘ <a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div><div class="paragraphs"><p>گرافکس ’ایکس‘ <a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>

i

user

google_preferred_badge

نئی دہلی: نیٹ 2026 پیپر لیک معاملہ کو لے کر انڈین یوتھ کانگریس کے صدر اودے بھانو چب اور این ایس یو آئی کے صدر ونود جاکھڑ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں مودی حکومت، بی جے پی اور این ٹی اے (نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی) کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ دونوں تنظیموں کے لیڈران نے الزام عائد کیا کہ ملک کے تعلیمی نظام کو منظم انداز میں تباہ کیا جا رہا ہے اور لاکھوں طلبا کے مستقبل سے کھلواڑ ہو رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پیپر لیک کے پورے نیٹورک کو سیاسی تحفظ حاصل ہے اور اس کے لیے حکومت براہ راست ذمہ دار ہے۔

انڈین یوتھ کانگریس کے صدر اودے بھانو چب نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’نیٹ پیپر لیک ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ملک میں لاکھوں بچے دن رات پڑھائی کرتے ہیں، کئی سال سخت محنت کرتے ہیں تاکہ ان کا مستقبل سنور جائے۔ لیکن گزشتہ 10 برسوں میں 89 پیپر لیک ہوئے ہیں اور 48 مرتبہ دوبارہ امتحانات کرائے گئے ہیں۔ یعنی حکومت نے بچوں کے تئیں اپنی جواب دہی ختم کر دی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی خود کو ان طلبا کی جگہ رکھ کر دیکھے تو ان کے درد کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ طلبا محنت سے امتحان دیتے ہیں، لیکن جب پیپر لیک ہوتا ہے تو ان کا پورے نظام پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔

اودے بھانو چب نے بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’بی جے پی دعویٰ کرتی ہے نریندر مودی 2 ملکوں کے درمیان جنگ رکوا دیتے ہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ ’کمپرومائزڈ پی ایم‘ نریندر مودی پیپر لیک بھی نہیں رکوا پا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے آگے کہا کہ ’’جب سے این ٹی اے وجود میں آیا ہے، تب سے مسلسل پیپر لیک کے معاملے سامنے آئے ہیں، میرٹ پر سوال اٹھے ہیں اور عدالتوں نے بھی ان معاملات کا نوٹس لیا ہے۔‘‘ انہوں نے سوال اٹھایا کہ این ٹی اے کا آڈٹ کون کرتا ہے؟ پرائیویٹ وینڈر کو کس بنیاد پر کام دیا جاتا ہے؟

اودے کے مطابق پہلے یونیورسٹیاں اور ریاستی حکومتیں خود امتحانات کراتی تھیں، لیکن اب این ٹی اے کے ذریعہ بی جے پی بچوں کے مستقبل کو اندھیرے میں دھکیل رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’آج بی جے پی نے ایسا بدعنوان نظام بنا دیا ہے جہاں امیروں کے بچے پاس ہوں گے، سیٹیں لیں گے اور ملازمتیں حاصل کریں گے، جبکہ غریبوں کے بچوں کا مستقبل برباد ہو جائے گا۔‘‘ انھوں نے اس معاملہ میں 3 اہم مطالبات سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ وزیر تعلیم کو فوری طور پر استعفیٰ دینا چاہیے، حکومت کے ذریعہ متاثرہ طلبا کو معاوضہ دیا جانا چاہیے اور نیٹ پیپر لیک معاملہ کی جانچ کے لیے جے پی سی تشکیل دی جانی چاہیے۔

اودے بھانو چب نے پریس کانفرنس کے دوران اس بات کا عزم بھی ظاہر کہ ’’آج بی جے پی طلبا کی زندگی خراب کر رہی ہے۔ ہم مل کر اس ناانصافی کے خلاف لڑیں گے اور طلبہ کو انصاف دلائیں گے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’2024 میں نیٹ کا پیپر لیک جن این ٹی اے ڈی جی کے دور میں ہوا، بی جے پی حکومت نے انہیں چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ کا پرنسپل ایڈوائزر بنا دیا۔ یعنی جو پیپر لیک کریں گے، ان کا مستقبل بی جے پی میں بہت اچھا ہوگا۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’بی جے پی کا یہ رویہ دکھاتا ہے کہ یہ لوگ کمپرومائزڈ ہیں۔ پیپر لیک کا پورا نیکسس بی جے پی کے لوگ چلا رہے ہیں اور پیسوں کی بندر بانٹ میں بچوں کے مستقبل کو برباد کیا جا رہا ہے۔‘‘

دوسری طرف این ایس یو آئی صدر ونود جاکھڑ نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ صرف نیٹ امتحان منسوخ کر دینا مسئلہ کا حل نہیں ہے، بلکہ پیپر لیک کی جڑ کو ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’’آخر کیا وجہ ہے کہ گزشتہ 10 سال میں 89 پیپر لیک ہوئے، 4 بار نیٹ کا پیپر لیک ہوا اور 48 مرتبہ دوبارہ امتحانات کرانے پڑے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ واقعات ملک کے تعلیمی نظام پر بڑے سوال کھڑے کرتے ہیں اور اب طلبا جان چکے ہیں کہ مودی حکومت ناکام ہے۔ ان کے مطابق طلبا میں شدید مایوسی پائی جا رہی ہے۔

ونود جاکھڑ نے اس بات پر سخت ناراضگی ظاہر کی کہ ہر بار پیپر لیک کے بعد این ٹی اے سامنے آتی ہے، معافی مانگتی ہے اور چلی جاتی ہے، لیکن حکومت کبھی ذمہ داری طے نہیں کرتی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایک ’سوری‘ سے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل طے ہو جائے گا؟ کیا ایک ’سوری‘ سے ان بچوں کی پریشانیاں ختم ہو جائیں گی؟ جن والدین نے قرض لے کر اپنے بچوں کو پڑھایا ہے، کیا ان کی مشکلات ختم ہو جائیں گی؟ انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ اس پیپر لیک کا مرکز راجستھان رہا ہے اور یہ بھی سامنے آ چکا ہے کہ اسے سیاسی تحفظ حاصل تھا، جس نے لاکھوں بچوں کا مستقبل تباہ کر دیا۔ این ایس یو آئی صدر نے الزام لگایا کہ ’’نیٹ پیپر لیک میں بی جے پی کے بڑے بڑے لیڈروں کے نام سامنے آئے ہیں، جو خود کوچنگ ادارے چلاتے ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایڈمنسٹریشن حکومت کے دباؤ میں کام کر رہا ہے۔ کوچنگ اداروں کے ملازمین کو پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا، لیکن سیاسی دباؤ کی وجہ سے انہیں چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سیکر، کوٹہ اور جے پور کوچنگ کے بڑے مراکز ہیں اور وہاں کے تمام بڑے کوچنگ ادارے بی جے پی لیڈروں کے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیاسی تحفظ دے کر ’بڑے مگرمچھوں‘ کو بچانے کی کوشش نہ کی جائے۔

ونود جاکھڑ نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ ’’راجستھان کے جاموارام گڑھ کے 2 بھائیوں نے نیٹ 2026 پیپر لیک کو انجام دیا ہے اور یہ دونوں بی جے پی یوا مورچہ (بی جے پی وائی ایم) سے جڑے ہیں۔ ان پیپر لیک مافیاؤں کی تصویریں بی جے پی کے بڑے بڑے لیڈروں کے ساتھ ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ سنگین الزام بھی عائد کیا کہ ’’نیٹ 2026 پیپر لیک بی جے پی کی سوچی سمجھی سازش ہے اور اس نے لاکھوں بچوں کے مستقبل کو گہری تاریکی میں دھکیل دیا ہے۔‘‘

پریس کانفرنس کے دوران ونود جھاکھڑ نے اعلان کیا کہ این ایس یو آئی پورے ملک میں نیٹ طلبا کے ساتھ مل کر احتجاجی تحریک چلائے گی، کیونکہ یہ ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے جو ملک کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’این ٹی اے امتحانات کرانے میں ناکام ہے، اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اسے مکمل طور پر بند کیا جائے اور کسی سرکاری ادارے کے ذریعے امتحانات کرائے جائیں۔‘‘ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ پورے معاملہ کی جانچ کے لیے جے پی سی تشکیل دی جائے اور پیپر لیک سے جڑے تمام ملزمین کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ انوھں نے پیپر لیک مافیاؤں پر سخت کارروائی کے ساتھ ساتھ کوچنگ مافیاؤں پر بھی شکنجہ کسنے کا مطالبہ کیا۔

پریس کانفرنس کے آخر میں ونود جاکھڑ نے کہا کہ ’’پیپر لیک میں سب سے بڑا ہاتھ ملک کے کوچنگ مافیاؤں کا ہوتا ہے۔ پہلے یہ مہنگے داموں پر پیپر خریدتے ہیں اور پھر چھوٹے موٹے پیادوں کو پھنسا کر خود بچ نکلتے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق کوچنگ مافیا خواب دکھا کر لاکھوں روپے فیس وصول کرتے ہیں اور پھر پیپر لیک کے ذریعے بچوں کا مستقبل تباہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ملک میں طلبا خودکشی کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس معاملہ کو مضبوطی سے اٹھانے اور بچوں کو انصاف دلانے کے لیے ملک بھر میں تحریک چلانے کا عزم بھی ظاہر کیا۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *