
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عالمی توانائی ایجنسی (IEA) نے اعلان کیا ہے کہ فروری سے اب تک آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی سپلائی میں یومیہ 12 لاکھ 80 ہزار بیرل کی کمی واقع ہو چکی ہے۔
ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے باعث سال 2026 کے دوران تیل کی عالمی رسد، طلب سے کم رہے گی.
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور جنگی اثرات کے سبب دنیا بھر میں تیل کے ذخائر انتہائی غیر معمولی رفتار سے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل عالمی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے کہا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ نے تاریخ کے سب سے بڑے توانائی بحران کو جنم دیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ برقرار رہی تو عالمی توانائی ایجنسی اسٹریٹجک ذخائر سے مزید تیل نکالنے کے لیے تیار ہے۔
فاتح بیرول کے مطابق رکن ممالک اب تک اپنے مجموعی تزویراتی ذخائر کا تقریباً 20 فیصد جاری کر چکے ہیں۔
