
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے امریکہ کے ساتھ نئے مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ فی الحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ ممکنہ نئے مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ اگرچہ اس حوالے سے مشورے جاری ہیں اور ہمیں کچھ پیغامات بھی موصول ہوئے ہیں تاہم مستقبل میں مذاکرات کا انحصار مکمل طور پر ہمارے قومی مفادات پر ہوگا۔ ہم جہاں ضروری سمجھیں وہاں جنگ کریں گے، اور جہاں مصلحت ہو، وہاں مذاکرات کریں گے۔ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہم کسی بھی مؤثر ذریعہ کو ترک نہیں کریں گے۔
عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ گذشتہ مذاکرات میں ہم مضبوط موقف کے ساتھ شامل ہوئے اور کوئی کوتاہی نہیں کی۔ چونکہ مخالف فریق اپنے مقاصد میں ناکام رہا، اس لیے اس نے جنگ کی راہ اپنائی۔ ہم نے ملکی مفادات کے دفاع میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔
عراقچی نے مزید کہا کہ ایرانی عوام نے دیکھ لیا کہ ایران نے سفارتکاری کا میدان ترک نہیں کیا، بلکہ دنیا پر حجت تمام کردی اور اپنے دفاع کے حق کی حقانیت کو ثابت کیا۔
انہوں نے اس موقع پر رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہای کے شجاعانہ اور مدبرانہ کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس خاص دور میں اور گذشتہ برسوں میں ان کی مدبرانہ قیادت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے نہ صرف مذاکرات میں بلکہ دفاع میں بھی ‘عصائے موسیٰ’ کی مانند رہنمائی کی، دشمنوں کو اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہونے دیا اور بہت کم وقت میں ہر چیز کو دوبارہ منظم کردیا۔ میں نے خود 12 دنوں کے اندر دیکھا کہ کس طرح ان کی قیادت نے راہیں کھولیں اور ایک تاریخی حماسه رقم ہوئی۔
