رہبر کی شخصیت کو مشکوک بنا کر تحریکِ مزاحمت کو کمزور کیا جائے۔

رہبر معظم کے خلاف پروپیگنڈے کی حقیقت

*حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید تقی رضا عابدی*
صدر: ساؤتھ انڈیا شیعہ علماء کونسل
سیکرٹری مجلس علماء ھند نے اپنے بیان میں کہاں کے

آج جو زرخرید، بے ضمیر میڈیا آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے خلاف من گھڑت الزامات، بے بنیاد پروپیگنڈے اور بے ہودہ تبصرے پھیلا رہا ہے، وہ دراصل اس کی بوکھلاہٹ، بے یقینی اور ذہنی شکست کی علامت ہے۔ یہ شور و غوغا اُس سچائی کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے جو دنیا بھر کے باضمیر انسانوں پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے۔

جب ساری دنیا میں فلسطین کے مظلوموں کی حمایت ایک عالمی تحریک میں بدل چکی ہے، اور اس حریت کی قیادت رہبر معظم آیت اللہ خامنہ‌ای کے ہاتھوں میں ہے، تو ایسے میں دشمن عناصر کو یہی راستہ نظر آیا کہ عوام کے دلوں میں اس عظیم رہبر کی شخصیت کو مشکوک بنا کر تحریکِ مزاحمت کو کمزور کیا جائے۔

یہ کوئی نئی چال نہیں۔ ہر دور میں جب بھی حق و باطل کی جنگ نے شدت اختیار کی، باطل نے ہمیشہ کردار کشی، جھوٹے افواہوں، اور فکری حملوں کا سہارا لیا۔ لیکن وقت کا سب سے بڑا گواہ یہی ہے کہ رہبر معظم کی بصیرت، تقویٰ اور شجاعت نے عالمی استعمار کو لرزا کر رکھ دیا ہے، اور یہی بات اُن قوتوں کو برداشت نہیں ہو رہی۔

اس وقت اس پروپیگنڈا کا سب سے بڑا جواب خود عوام دے رہے ہیں، جن کے دلوں میں آیت اللہ خامنہ‌ای کی محبت اور اعتماد پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔ اگر ان میڈیا اداروں نے اپنی روش نہ بدلی، تو پھر ہم اپنے تمام تر وسائل اور توانائیوں کے ساتھ ان کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کریں گے، اور اُن کی سازشوں کو عوامی بیداری کے ذریعے دفن کر دیں گے۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *