بہرحال، پوتن نے بار بار امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق روس کے اندر یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران کو روس اسی طرح حمایت دے جس طرح امریکہ نے یوکرین کو حمایت دی ہے۔ حالانکہ ایران کے وزیر خارجہ سے ملنے کے بعد پوتن نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ ’’ایران کے خلاف اس جارحانہ کارروائی کی کوئی بنیاد اور کوئی مطلب نہیں ہے۔ ایران کے ساتھ ہمارے طویل وقت سے دوستانہ اور بھروسہ مند رشتہ ہے، اور ہم اپنی طرف سے ایرانی عوام کی حمایت کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
