ملے پلی کی مسجدِ ابراہیم پر قبضہ کی کوشش، ایم ایل اے ماجد حسین اور عوام کی بھرپور مزاحمت

حیدرآباد:ملے پلی کی تاریخی مسجدِ ابراہیم کو لاحق خطرے کے پیش نظر نامپلی کے رکنِ اسمبلی ماجد حسین، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے کارکنان اور مقامی عوام نے مسجد کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر بھرپور جدوجہد کا آغاز کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، عدالت کے ایک حکم کی روشنی میں پولیس اور کورٹ بیلف مسجد کا قبضہ کسی اور فریق کو منتقل کرنے کے ارادے سے موقع پر پہنچے۔ تاہم، مقامی افراد نے سخت احتجاج کیا اور مسجد کی حرمت کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے واضح اور پرامن موقف اختیار کیا۔

ایم ایل اے ماجد حسین نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: “یہ صرف اینٹوں اور پتھروں کی عمارت نہیں بلکہ ہزاروں افراد کے ایمان، عقیدے اور دینی وابستگی کی علامت ہے۔ مسجد پر کوئی بھی غیر قانونی یا غیر شرعی اقدام ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ وہ نہ صرف عوام کے ساتھ میدان میں موجود ہیں بلکہ قانونی محاذ پر بھی مکمل تیاری کے ساتھ عدالت میں لڑائی لڑیں گے تاکہ مسجد کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

احتجاج میں پارٹی کارکنان، مقامی نوجوان، معزز بزرگ اور علماء کرام نے بھرپور شرکت کی۔ مظاہرین نے پرامن انداز میں احتجاج درج کراتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ مسجد کی بازیابی اور تحفظ تک جدوجہد جاری رہے گی۔

صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری موقع پر تعینات کر دی گئی ہے تاکہ امن و امان برقرار رہے اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔



[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *