اپنے ہی عطیات کی زنجیروں میں جکڑی امریکی یونیورسٹیاں…جگدیش رتنانی

ایم آئی ٹی امریکہ کے ان کئی جامعات میں شامل ہے جن کے اسرائیلی فوج کے ساتھ تحقیقی روابط اور معاہدے ہیں اور جہاں سے انہیں مالی امداد بھی حاصل ہوتی ہے۔ بلاشبہ یہ جامعات فلسطین میں جاری نسل کشی کی مہم میں بالواسطہ شریک ہیں۔ ‘ایم آئی ٹی فیکلٹی نیوز لیٹر’ کے مئی/جون 2024 کے شمارے کے مطابق، ایم آئی ٹی کو اسرائیلی وزارتِ دفاع سے تحقیقی منصوبوں کے لیے 1.1 کروڑ ڈالر کی رقم موصول ہوئی ہے۔

ویموری کی جرأت مندانہ مزاحمت امریکی جامعات کے ان امتیازات کو اجاگر کرتی ہے جہاں طلبہ نہ صرف بے خوف ہو کر بلکہ جوش و جذبے کے ساتھ کلاس روم سے باہر کے معاملات پر بھی بات کرنے کے طریقے تلاش کرتے ہیں لیکن اس کے بعد جو کچھ پیش آیا، وہ آزادی اظہار کے معاملے میں ایم آئی ٹی کی ساکھ کو بری طرح مجروح کرنے والا تھا۔ میگھا ویموری کو 6 جون کو اپنی ہی گریجویشن کی تقریب میں شریک ہونے سے روک دیا گیا۔

‘موریل مشینز’ کے ذریعے کی جانے والی تمام اخلاقی تحقیق بھی اس بلند اخلاقی مقام کو دوبارہ حاصل نہیں کر سکتی، جس پر ویموری اور ان کے ساتھی طالب علم فائز ہوئے۔ ویموری نے ایک ایسا سبق پیش کیا جس سے امریکہ ہی نہیں، دنیا بھی بہت کچھ سیکھ سکتی ہے۔

(مضمون نگار جگدیش رتنانی صحافی اور ایس پی جے آئی ایم آر میں فیکلٹی ممبر ہیں، بشکریہ دی بلین پریس)

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *