
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب اسلامی کے مشیر علی شمخانی نے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ جوہری معاہدے کی تجویز کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا ہے کہ ایران اس وقت ایک نیا، جامع اور قابلِ قبول متبادل مسودہ تیار کر رہا ہے۔
لبنانی چینل المیادین سے گفتگو کرتے ہوئے شمخانی نے واضح کیا کہ ایران کبھی بھی اپنے فطری اور قانونی حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی تجویز میں پابندیوں کے خاتمے جیسے بنیادی موضوع کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے حالانکہ یہ تہران کے لیے ایک اصولی اور اساسی معاملہ ہے۔
شمخانی نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران ہرگز یہ اجازت نہیں دے گا کہ امریکہ اپنے ان اہداف میں کامیاب ہو جن کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنا اور یورینیم کی افزودگی کو صفر کی سطح تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ جوہری مذاکرات کے حوالے سے اوباما دور سے لے کر آج تک امریکی مؤقف میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔
