کانگریس صدر کھڑگے نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ عالمی مالیاتی ادارے جیسے آئی ایم ایف، ایشیائی ترقیاتی بینک اور ورلڈ بینک اگر پاکستان کو قرض یا بیل آؤٹ پیکیج فراہم کرتے ہیں تو اس کا زیادہ تر فائدہ پاکستان کی آرمی کو پہنچے گا، جو ان رقوم کو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں صرف کرے گی، جس کا ہدف اکثر ہندوستانی عوام بنتے ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی حالیہ تقرری پر بھی تنقید کی، جس کے تحت پاکستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 15 رکنی انسداد دہشت گردی کمیٹی کا نائب صدر اور طالبان پابندیوں کی کمیٹی کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔ کھڑگے نے اسے ایک افسوس ناک، غلط معلومات پر مبنی اور ناقابل قبول فیصلہ قرار دیا۔
