
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انٹیلی جنس اقدامات سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانی شہریوں نے اپنے ملک میں آسٹریلیا کا ویزا حاصل کرنے کے عنوان سے ایک انسٹاگرام پیج سے ایران میں موجود اس کے آپریٹرز سے رابطہ کیا، جو کہ افغان شہری ہیں، لیکن ہوائی جہاز کے ذریعے تہران پہنچنے پر غائب ہو گئے۔
اس واقعے کے چند روز بعد کئی اغوا کاروں نے بھارتی شہریوں کے اہل خانہ سے رابطہ کرکے ایک کروڑ اسی لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔
ایرانی انٹیلی جنس نے پہلے مرحلے میں وسیع اقدامات کے ذریعے افغان اغوا کاروں کی شناخت کی اور ان کے مجرمانہ نیٹ ورک کا سراغ لگایا۔
انٹیلی جنس حکام نے ورامین میں مشتبہ افراد کے ٹھکانے کی نشاندہی کی اور فوری طور پر افغان اغواکاروں کا تعاقب کیا جس کے نتیجے میں 4 مشتبہ افراد کو گرفتار جب کہ 3 ہندوستانی شہریوں کو بازباب کرایا گیا۔
اغواکاروں کے ٹھکانے میں دیگر ممالک کے شہری بھی موجود تھے جنہیں ویزوں کے حصول کی آڑ میں یرغمال بنایا گیا تھا۔
