
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے آخرکارمہ ایران کے اس دیرینہ مطالبے کو تسلیم کر لیا ہے کہ اُسے اپنی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی کی اجازت حاصل ہو۔
آکسیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے ایران کو ایک نئی عبوری تجویز پیش کی ہے جس میں تہران کو کم سطح، یعنی ۳ فیصد تک یورینیم افزودہ کرنے کی مشروط اجازت دی گئی ہے۔
یہ تجویز ایک محدود اور عارضی مدت کے لیے ہوگی، جس کی مدت کا تعین بعد کے مذاکرات میں طے کیا جائے گا۔ تاہم اس تجویز میں بعض سخت شرائط بھی شامل کی گئی ہیں۔ جن میں ایران کو افزودگی تنصیبات تعمیر کرنے سے روکنے، موجودہ زیرزمین ایٹمی تنصیبات کو وقتی طور پر بند کرنے اور جدید نسل کی سینٹری فیوج مشینوں پر تحقیق و ترقی کو معطل کرنے کا کہا گیا ہے۔ امریکہ نے ساتھ ہی یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ایران اپنی کچھ حساس ایٹمی تنصیبات کو مکمل طور پر ختم کرے۔
آکسیوس نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا ہے کہ امریکہ اس تجویز کے ذریعے ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کو بڑھانا چاہتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ امریکہ کے اندر، خصوصاً کانگریس اور اسرائیل کی طرف سے اس پر سخت ردعمل سامنے آئے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حامی متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران کو کسی بھی صورت میں یورنئیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے اور ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر ختم ہونا چاہیے۔
ادھر ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اپنی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی اس کا ایک ناقابلِ سمجھوتہ حق ہے اور وہ اسے کسی قیمت پر ترک نہیں کرے گا۔
اس پیش رفت سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ نے عملی سطح پر اپنے پرانے دعووں سے پیچھے ہٹتے ہوئے ایران کے اصولی موقف کو جزوی طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ اگرچہ اس میں کئی پابندیاں اور نگرانی کی شرائط شامل ہیں، لیکن بین الاقوامی سطح پر یہ ایک اہم تبدیلی سمجھی جارہی ہے، جو ممکنہ طور پر ایران اور مغرب کے درمیان ایٹمی تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔
