حیدراباد – تلنگانہ کانگریس کے سینر لیڈر و سابق وزیر محمد علی شبیر نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے آڈیو کلپ پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اس معاملے میں پارٹی کی ڈسپلنری کمیٹی کی جانب سے ارسال کردہ نوٹس کے جواب میں انہوں نے تفصیلی وضاحت پیش کی۔
شبیر علی نے واضح کیا کہ مذکورہ آڈیو کلپ مکمل طور پر جعلی، من گھڑت اور کسی کی جانب سے دانستہ طور پر تیار کیا گیا مواد ہے۔ انہوں نے کہا، “میرے خلاف لگائے جا رہے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ ڈسپلنری کمیٹی کی جانب سے وضاحت طلب کئے جانے سے قبل ہی میں نے اپنے خلاف چلائی جا رہی منفی مہم کے سلسلے میں پولیس کو باضابطہ شکایت درج کروائی تھی۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرتے ہوئے کردار کشی کی جا رہی ہے، جس کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لئے وہ ماہرین قانون سے مشاورت کر رہے ہیں۔
تین صفحات پر مشتمل اپنے وضاحتی جواب میں محمد علی شبیر نے کہا کہ مجھے 13 جون 2026 کو ڈسپلنری ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ خط موصول ہوا ہے، جس میں بعض نیوز چینلوں پر نشر ہونے والی میڈیا رپورٹس کے حوالے سے میری وضاحت طلب کی گئی ہے۔ ان رپورٹس میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ میں نے تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی (TPCC) کے صدر اور پارٹی سے وابستہ خواتین کے خلاف توہین آمیز، نازیبا اور قابل اعتراض تبصرے کئے ہیں۔
سب سے پہلے میں ان تمام الزامات کی سختی اور دوٹوک انداز میں تردید کرتا ہوں۔ میں نے نہ تو ٹی پی سی سی صدر کے خلاف اور نہ ہی کانگریس پارٹی کی کسی خاتون لیڈر، کارکن یا رکن کے خلاف کوئی نازیبا یا توہین آمیز تبصرہ کیا ہے۔ میرے خلاف پھیلائے جانے والے الزامات بے بنیاد، جھوٹے، من گھڑت، بدنیتی پر مبنی اور سیاسی محرکات کا نتیجہ ہیں۔
یہ پورا تنازعہ بظاہر ’’تلگو اسکرائب‘‘ نامی ایکس (سابقہ ٹوئٹر) ہینڈل کی جانب سے 10 جون 2026 کو رات 10 بج کر ایک منٹ پر پوسٹ کئے گئے 54 سیکنڈ کے ایک آڈیو کلپ سے شروع ہوا۔ مذکورہ ہینڈل نے دعویٰ کیا کہ یہ کلپ تقریباً ایک سال قبل کاماریڈی کے ایک کانگریس کارکن کے ساتھ میری مبینہ گفتگو کی ریکارڈنگ ہے۔ اسی غیر مصدقہ اور مشکوک آڈیو کلپ کی بنیاد پر مجھ پر بے بنیاد الزامات عائد کئے گئے۔ بعد ازاں بعض تلگو نیوز چینلوں نے اسی کلپ کو بنیاد بنا کر خصوصی رپورٹس نشر کیں اور کئی ایسے بیانات میری جانب منسوب کئے جو میں نے کبھی نہیں دیئے اور نہ ہی کبھی دے سکتا ہوں۔
میں ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ مذکورہ آڈیو کلپ جعلی، ایڈٹ شدہ، من گھڑت اور ممکنہ طور پر جدید وائس کلوننگ اور مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار یا تبدیل کیا گیا ہے۔ موجودہ تکنیکی دور میں آڈیو ریکارڈنگ کو آسانی سے ایڈٹ، مسخ، تبدیل یا مصنوعی طور پر تیار کیا جاسکتا ہے تاکہ کسی شخص کی آواز کی نقل کی جا سکے۔ اس لئے کسی سائنسی فرانزک جانچ کے بغیر ایسے غیر مصدقہ مواد کی بنیاد پر کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
میں پہلے ہی اس معاملے میں قانونی مشورہ حاصل کر رہا تھا تاکہ مذکورہ ایکس ہینڈل اور جعلی کلپ کی تیاری، تشہیر اور پھیلاؤ میں ملوث افراد کے خلاف فوجداری اور دیوانی کارروائی کی جا سکے۔ تاہم، اس سے قبل ہی بعض ٹیلی ویژن چینلوں نے بغیر کسی تصدیق اور بغیر میرا مؤقف معلوم کئے اس مواد کو نشر کیا، جس سے میری سماجی، سیاسی اور شخصی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔
میں ڈسپلنری ایکشن کمیٹی کو یہ بھی مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ وضاحت طلبی کا خط جاری ہونے سے قبل ہی کانگریس پارٹی کی جانب سے کاماریڈی ضلع کانگریس ٹاؤن صدر مسٹر آئرینی سندیپ کمار نے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، کاماریڈی کو باقاعدہ شکایت درج کروائی تھی۔ اس شکایت کی نقول ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، کاماریڈی اور اسٹیشن ہاؤس آفیسر، کاماریڈی پولیس اسٹیشن کو بھی ارسال کی گئی تھیں۔ اس سلسلے میں کاماریڈی پولیس نے ایف آئی آر بھی درج کی ہے۔
شکایت میں خاص طور پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ میرے نام سے گردش کرنے والی مشکوک آڈیو ریکارڈنگس کی جامع تحقیقات کی جائیں، ان کا فرانزک معائنہ کیا جائے، ان کے اصل ماخذ کی نشاندہی کی جائے اور غلط معلومات، ہتک عزت اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈہ پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ شکایت میں یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ اصل آڈیو فائلوں کو محفوظ کیا جائے اور یہ جانچا جائے کہ آیا وہ اصلی ہیں یا ایڈٹ شدہ، مسخ شدہ، من گھڑت یا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ہیں۔ ساتھ ہی ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، یوٹیوب چینلوں، واٹس ایپ گروپس، میڈیا اداروں، ایڈمنسٹریٹروں اور دیگر متعلقہ عناصر کے کردار کی بھی تحقیقات کی جائیں جنہوں نے بغیر تصدیق کے ان ریکارڈنگس کو بار بار نشر یا شیئر کیا۔
شکایت میں مزید یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ آیا ان ریکارڈنگس کے پس منظر میں کوئی بڑی سازش، ہتک عزت کی مہم، عوام کو گمراہ کرنے کی منظم کوشش، سماجی بے چینی پیدا کرنے کا ارادہ یا کوئی سیاسی مقصد کارفرما ہے یا نہیں، اس کی بھی تحقیقات کی جائیں۔ لہٰذا یہ معاملہ محض میڈیا رپورٹنگ کا نہیں بلکہ ایک منظم کوشش کا شبہ پیدا کرتا ہے، جس کے تحت مواد تیار کر کے سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلایا گیا، ٹیلی ویژن چینلوں کے ذریعہ اسے بڑھاوا دیا گیا اور میری ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
واقعات کی ترتیب بھی ایک بڑی سازش کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کاماریڈی میں گڈم چندر شیکھر ریڈی کی قیادت میں ایک گروپ، جو اکتوبر 2023 میں بی آر ایس سے معطلی کے بعد کانگریس میں شامل ہوا تھا، ضلع میں گروہ بندی کو فروغ دے رہا ہے اور کانگریس تنظیم کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پارٹی کو مضبوط بنانے کے بجائے یہ گروپ طویل عرصے سے وابستہ کانگریس قائدین اور کارکنوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
سب سے پہلے اسی گروپ نے کاماریڈی کے بعض کانگریس قائدین کے خلاف ڈسپلنری ایکشن کمیٹی سے شکایتیں کیں اور شوکاز نوٹس جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ چند ہی دنوں بعد ’’تلگو اسکرائب‘‘ نامی ایکس ہینڈل پر مبینہ آڈیو کلپ منظر عام پر آیا، جو کانگریس مخالف مواد شائع کرنے اور کانگریس حکومت کو نشانہ بنانے کے لئے معروف ہے۔ اس کے اگلے دن ایک خاتون نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مجھ پر، میرے اہل خانہ اور دیگر کانگریس قائدین پر بے بنیاد الزامات عائد کئے۔ ان تمام واقعات کو محض اتفاق نہیں کہا جا سکتا۔ یہ واضح طور پر مجھے بدنام کرنے، اندرونی اختلافات پیدا کرنے اور کاماریڈی میں کانگریس پارٹی کو کمزور کرنے کی ایک منصوبہ بند کوشش معلوم ہوتی ہے۔
میں بااحترام طور پر عرض کرتا ہوں کہ میں نے نہ کوئی پریس کانفرنس کی، نہ کوئی عوامی بیان جاری کیا، نہ کسی عوامی پلیٹ فارم سے خطاب کیا، نہ صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو میں اور نہ کسی اور موقع پر ٹی پی سی سی صدر یا پارٹی سے وابستہ خواتین کے خلاف کوئی الزام یا قابل اعتراض تبصرہ کیا۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ یہ مبینہ نجی آڈیو کلپ ’’تلگو اسکرائب‘‘ تک کیسے پہنچا، جو مسلسل کانگریس مخالف مواد نشر کرتا رہا ہے اور جسے بی آر ایس سے وابستہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسا مواد کسی سیاسی سازش کے تحت جان بوجھ کر فراہم کئے بغیر اس انداز میں منظر عام پر نہیں آ سکتا تھا۔ اس کا مقصد بظاہر مجھے ذاتی طور پر نقصان پہنچانا، کاماریڈی میں کانگریس تنظیم کو متاثر کرنا اور پارٹی قیادت کے لئے غیر ضروری مشکلات پیدا کرنا تھا۔
میں مسٹر بومّا مہیش کمار گوڑ کے ساتھ اپنے ذاتی اور سیاسی تعلقات کو بھی ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں۔ وہ میرے اپنے ضلع سے تعلق رکھتے ہیں اور گزشتہ تقریباً چار دہائیوں سے میری ان سے قریبی شناسائی ہے۔ وہ میرے لئے ایک چھوٹے بھائی اور دوست کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسے تعلقات کے باوجود میں ان کے بارے میں اس نوعیت کی زبان استعمال کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اگر میڈیا رپورٹس اور مسخ شدہ کلپس دیکھ کر وہ دل آزردہ ہوئے ہیں تو مجھے بھی شدید دکھ اور افسوس ہے، کیونکہ ہمارے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی دانستہ کوشش کی جا رہی ہے۔
جو لوگ میری شخصیت اور سیاسی طرز عمل سے واقف ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ میں اپنے ساتھیوں کے خلاف، بالخصوص ایسے شخص کے خلاف جس سے میرا طویل اور خوشگوار تعلق رہا ہو، کبھی بھی توہین آمیز یا ذاتی نوعیت کے ریمارکس نہیں کرتا۔
میں گزشتہ 45 برس سے انڈین نیشنل کانگریس سے وابستہ ہوں۔ میری پہلی فعال انتخابی مہم 1980 میں میدک لوک سبھا حلقے سے آنجہانی محترمہ اندرا گاندھی کے حق میں تھی۔ میں 1989 میں 32 برس کی عمر میں کاماریڈی سے رکن اسمبلی منتخب ہوا اور 1989 اور 2004 میں دو مرتبہ اس حلقے کی نمائندگی کی۔ بعد ازاں میں قانون ساز کونسل میں قائدِ حزب اختلاف بھی رہا اور بی آر ایس حکومت کے خلاف جدوجہد کرتا رہا۔ اپنے طویل سیاسی سفر میں میں نے مختلف ذمہ داریوں پر پارٹی کی خدمت کی ہے اور ہمیشہ اس کے نظریات، قیادت اور تنظیمی نظم و ضبط کا پابند رہا ہوں۔
ان 45 برسوں میں کانگریس تقریباً 17 سال ہی اقتدار میں رہی، جبکہ باقی عرصے میں میں نے حزب اختلاف میں رہتے ہوئے بھی پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ مختلف ادوار میں ٹی ڈی پی اور بی آر ایس کی مضبوط سیاسی لہروں کے باوجود میں نے کاماریڈی اور پورے تلنگانہ میں کانگریس کے وجود کو مضبوط بنانے کے لئے مسلسل کام کیا۔ میں نے کبھی ایسا کوئی عمل نہیں کیا جس سے پارٹی کے وقار، مفاد یا ساکھ کو نقصان پہنچے۔
میری عوامی زندگی ہمیشہ اس نوعیت کے الزامات سے پاک رہی ہے۔ میں نے ہمیشہ پارٹی قیادت، خواتین قائدین، کارکنوں اور ارکان کا احترام کیا ہے۔ اس لئے یہ الزام کہ میں ٹی پی سی سی صدر یا کانگریس سے وابستہ خواتین کے خلاف نازیبا ریمارکس کر سکتا ہوں، سراسر جھوٹ اور میرے سیاسی کردار، ذاتی اقدار اور کانگریس کے لئے دہائیوں پر محیط خدمات کے منافی ہے۔
میں نے فوری طور پر میڈیا رپورٹس پر ردعمل ظاہر نہیں کیا کیونکہ میں مناسب قانونی کارروائی پر غور کر رہا تھا اور کسی جعلی و مسخ شدہ کلپ کو مزید تشہیر نہیں دینا چاہتا تھا۔ اس قسم کا من گھڑت مواد اکثر ردعمل حاصل کرنے، توجہ ہٹانے اور مزید نقصان پہنچانے کے مقصد سے پھیلایا جاتا ہے۔ تاہم چونکہ اس مواد کی تشہیر اور نشریات سے میری ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے، اس لئے میں تمام ذمہ دار افراد اور پلیٹ فارمز کے خلاف، جنہوں نے اس جعلی کلپ کو تیار کیا، پھیلایا، بڑھاوا دیا یا بغیر تصدیق نشر کیا، فوجداری ہتک عزت اور دیگر قانونی کارروائیاں شروع کروں گا۔
سیاست میں سازشیں نئی بات نہیں ہیں، لیکن انہیں شائستگی، قانون اور پارٹی نظم و ضبط کی حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے۔ اس معاملے میں میری ساکھ خراب کرنے، میری اعتباریت کو مجروح کرنے، عوام کو گمراہ کرنے اور کانگریس پارٹی کے اندر بداعتمادی پیدا کرنے کی ایک سنجیدہ اور منظم کوشش کی گئی ہے۔ میں ڈسپلنری ایکشن کمیٹی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس بدنیتی پر مبنی مہم، آڈیو کلپ کے مشتبہ انداز میں منظر عام پر آنے، اس کے سیاسی پس منظر اور اس حقیقت کو مدنظر رکھے کہ اس معاملے میں فرانزک جانچ اور فوجداری تحقیقات کے لئے کاماریڈی پولیس میں باقاعدہ شکایت پہلے ہی درج کی جا چکی ہے۔
لہٰذا میں درخواست کرتا ہوں کہ اس خط کو میری باضابطہ وضاحت تصور کیا جائے۔ میں ایک مرتبہ پھر واضح اور دوٹوک انداز میں تمام الزامات کی تردید کرتا ہوں اور یہ مؤقف دہراتا ہوں کہ میرے نام سے گردش کیا جانے والا آڈیو کلپ جعلی، ایڈٹ شدہ، من گھڑت اور سیاسی محرکات پر مبنی ہے۔
میں انڈین نیشنل کانگریس، اس کی قیادت، اس کے نظم و ضبط اور اس کے نظریات سے اپنی مکمل وابستگی کا اعادہ کرتا ہوں۔
