اسی گاؤں کے راج کمار پاندورنگ چودھری نے بتایا کہ انہوں نے کیلے کی فصل پر 2.5 لاکھ روپے خرچ کیے تھے اور بینک سے قرض بھی لیا تھا، لیکن بارش کی وجہ سے ان کی فصل گلنے لگی ہے۔ انہوں نے حکومت سے فوری مالی امداد کی اپیل کی ہے۔
مسئلہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب یہ انکشاف ہوا کہ نقصان کا جائزہ لینے والے سرکاری زرعی ملازمین اس وقت ہڑتال پر ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ جب تک سرکاری طور پر ’پنچنامہ‘ نہیں کیا جائے گا، تب تک انہیں معاوضہ نہیں ملے گا۔
کسانوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر فصلوں کا سروے کرایا جائے، نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے اور متاثرہ کسانوں کو جلد از جلد مالی امداد فراہم کی جائے تاکہ وہ دوبارہ کاشت کے قابل ہو سکیں۔ اب محض وعدوں اور یقین دہانیوں سے کام نہیں چلے گا۔
