وکیل نے مزید بتایا کہ عبداللہ اعظم خان پر تقریباً 29 فوجداری مقدمات اور ان کی والدہ تزئین فاطمہ پر 21 مقدمات درج ہیں۔ ان مقدمات میں بعض سنگین نوعیت کے جرائم شامل ہیں۔ ان حالات میں شکوک پیدا ہوتے ہیں کہ اسلحہ کا غلط استعمال ہو سکتا ہے، اسی وجہ سے ضلعی مجسٹریٹ نے اسلحہ ایکٹ کی دفعہ 17 کے تحت دونوں کے لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔
جب اسلحہ کی قسم اور تعداد کے بارے میں پوچھا گیا تو وکیل نے بتایا کہ دونوں کے پاس 0.32 بور ریوالور کے الگ الگ لائسنس تھے، جنہیں اب منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس طرح کل دو اسلحہ لائسنسوں کو رد کر دیا گیا ہے۔
