آئی بی آئی کے مطابق، سب سے زیادہ نقصان قرض فراڈ میں ہوا۔ صرف 7,950 کیسز میں 33,148 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، جبکہ ڈیجیٹل ادائیگی سے جڑے 13,516 کیسز میں نقصان محض 520 کروڑ روپے کا تھا۔
ریزرو بینک کی رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ کیسز کی تعداد میں سب سے زیادہ حصہ پرائیویٹ بینکوں کا رہا لیکن رقم کے اعتبار سے سب سے زیادہ نقصان سرکاری بینکوں کو ہوا۔ سرکاری بینکوں میں 6,935 کیسز میں 25,667 کروڑ روپے کا گھپلا سامنے آیا، جو کل رقم کا 71.3 فیصد ہے۔
