جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کے سنگھ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ’’محمودآباد کے اظہارِ رائے کے حق پر کوئی قدغن نہیں ہے، مگر چونکہ معاملہ حساس نوعیت کا ہے، اس لیے وہ سوشل میڈیا یا کسی بھی پلیٹ فارم پر ان مقدمات کے بارے میں کچھ نہیں کہیں گے۔‘‘
یہ پیشرفت محمودآباد کو دی گئی ایک ہفتے پرانی عبوری ضمانت میں توسیع کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ان کے خلاف ہریانہ میں دو ایف آئی آرز درج ہیں، جن میں الزام ہے کہ انہوں نے ‘آپریشن سندور’ سے متعلق سوشل میڈیا پر ایسا مواد شیئر کیا جو مبینہ طور پر اشتعال انگیز ہے۔ عدالت نے ان پوسٹس کو ابتدائی سماعت میں ’ڈاگ وسلنگ‘ یعنی درپردہ اشتعال انگیزی قرار دیا تھا۔
