
مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان میں بندرگاہ پر زوردار دھماکہ ہوا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12:30 بجے جنوبی صوبے ہرمزگان میں واقع شہید رجائی بندرگاہ پر زوردار دھماکہ ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق دھماکہ بندرگاہ کی ایک بلڈنگ میں ہوا ہے۔
شہید رجائی بندرگاہ پر دھماکے کی وجہ معلوم ہوگئی
بندرگاہ پر تیل کے ڈپو میں دھماکہ ہوا جس کے بعد امدادی ٹیموں کو فوری طور پر جائے حادثہ کی طرف بھیجا گیا ہے۔
حالات سیکورٹی اور امدادی ٹیموں کے قابو میں آنے تک بندرگاہ کی سرگرمیاں بند ہیں۔
واقعے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں ابھی تک مکمل اطلاعات نہیں ہیں تاہم دھماکے کی شدت زیادہ ہونے کی وجہ سے زیادہ نقصانات کا امکان ہے۔
شہید رجائی بندرگاہ دھماکے کا تیل کی تنصیبات سے کوئی تعلق نہیں
ایران کی نیشنل آئل ریفائننگ اور پٹرولیم مصنوعات کی کمپنی نے شہید رجائی بندرگاہ پر دھماکے اور آگ لگنے کے حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ دھماکے کا علاقے میں موجود آئل ریفائنری، ایندھن کے ذخائر اور تیل کی پائپ لائنوں سے وابستہ تنصیبات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بیان کے مطابق اس وقت بندر عباس کے علاقے میں موجود تمام تنصیبات معمول کے مطابق فعال ہیں اور ان کے کام میں کوئی خلل نہیں آیا ہے۔
علاقے میں تعیینات تمام آئل کمپنیوں کی امدادی اور فائر بریگیڈ ٹیمیں ہنگامی حالت میں ہیں اور بندرگاہ اور بحری ادارے کے ساتھ مل کر حادثے پر قابو پانے میں مدد فراہم رہی ہیں۔
شہید رجائی بندرگاہ پر دھماکے سے 47 افراد زخمی
ہرمزگان ایمرجنسی سروس کے مطابق اب تک شہید رجائی بندرگاہ میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 47 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں کو ہرمزگان کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا جاچکا ہے۔
اس وقت امدادی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور زخمیوں کو منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔
ہرمزگان میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا ہے کہ دھماکے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ جلد از جلد اس واقعے کی وجہ معلوم کرکے عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔
اپڈیٹ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
