یہ تنازع بدھ کے روز اس وقت شروع ہوا جب انوراگ کشیپ نے انسٹاگرام پر ایک صارف کے تبصرے کا جواب دیتے ہوئے برہمن طبقے سے متعلق سخت الفاظ استعمال کیے، جنہیں کئی افراد نے توہین آمیز قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر کشیپ کی پوسٹ وائرل ہوئی اور مختلف گروپوں نے ان پر تنقید کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی مانگ کی۔
شکایت کنندہ اُجول گوڈ نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ کشیپ کی یہ زبان برہمن برادری کے وقار پر براہ راست حملہ ہے اور اس پر سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ اسی دوران کشیپ کے خلاف ملک کے دیگر حصوں میں بھی غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔
