کانگریس رکن اسمبلی پھول سنگھ بریا نے کہا کہ ’’بی جے پی حکومت صرف یہ دکھانا چاہتی ہے کہ وہ خواتین کی خیر خواہ ہے، لیکن حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے۔ بی جے پی خواتین کی ہمدرد نہیں ہے۔‘‘


i
پیر کو کانگریس قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں عوامی مفاد کے مسائل اٹھانے اور ایوان کے لیے اہم موضوعات کو حتمی شکل دینے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی تمام 230 سیٹوں پر خواتین ریزرویشن نافذ کرنے کے تئیں کانگریس لیڈران نے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری کی موجودگی میں حزب اختلاف کے قائد امنگ سنگھار کی رہائش پر یہ میٹنگ ہوئی۔ اس میں کانگریس اراکین اسمبلی پھول سنگھ بریا، جھوما سولنکی، نارائن سنگھ پٹا، سنجے اوئیکے، دنیش جین باس، چندا سنگھ گور، بابو ڈنڈیل اور سچن یادو بھی شامل ہوئے۔
کانگریس رکن اسمبلی پھولٖ سنگھ بریا نے ’آئی اے این ایس‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت صرف یہ دکھانا چاہتی ہے کہ وہ خواتین کی خیر خواہ ہے، لیکن حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے۔ بی جے پی خواتین کی ہمدرد نہیں ہے۔ خواتین کو جس تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ حکمراں جماعت کی ہی دی ہوئی ہے۔ اسے معافی مانگنی چاہیے تھی، لیکن اس کے بجائے وہ محض تشہیر میں مصروف ہے۔
رکن اسمبلی بابو ٹنڈیل نے کہا کہ ہماری میٹنگ کا ایجنڈا تھا کہ ہم حکمراں جماعت کو جواب دیں گے۔ خواتین کو لوک سبھا اور اسمبلی میں 33 فیصد ریزرویشن ملنا ہی چاہیے۔ دنیش جین باس نے کہا کہ 2023 میں ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ پاس ہو چکا ہے۔ اب سیاسی پارٹیوں کو ٹکٹ کی تقسیم میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کو نافذ کر دینا چاہیے، لیکن بی جے پی صرف ملک کو گمراہ کرنا چاہتی ہے۔
کانگریس رکن اسمبلی سچن یادو نے کہا کہ بی جے پی کی نیت میں کھوٹ ہے۔ خواتین ریزرویشن کا مسئلہ صرف ایک سیاسی دکھاوا ہے۔ اسملبی کا خصوصی اجلاس بلانے کا مقصد صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔ حکومت کی نیت اور سوچ میں بہت فرق ہے۔ حکومت ملک کی نصف آبادی کو ان کے حقوق دینے کا ارادہ نہیں رکھتی۔
کانگریس رکن اسمبلی چندا سنگھ گور نے کہا کہ بی جے پی حکومت خواتین مخالف ہے۔ وہ نہیں چاہتی ہے کہ خواتین کو ریزرویشن ملے۔ سنجے اوئیکے نے کہا کہ جب 2023 میں ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ پاس ہو چکا ہے، تب سے بی جے پی کو خواتین ریزرویشن نافذ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ کانگریس کا مطالبہ ہے کہ موجودہ صورتحال کے مطابق ہی خواتین ریزرویشن نافذ کیا جانا چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ میٹنگ کے بعد رکن اسمبلی جھوما سولنکی نے کہا کہ ’’بی جے پی حکومت ریزرویشن اور حد بندی کے مسائل پر الجھن پیدا کر رہی ہے۔ اگر بہن-بیٹیوں کو احترام دینا ہے اور سیاست میں ان کی شرکت کو بڑھانا ہے تو خواتین ریزرویشن بل کو براہ راست طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
