اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے ہندو سینا کے صدر وشو گپتا نے کہا کہ مقدمے میں اگر کوئی تکنیکی خامی پائی گئی ہے تو اسے دور کیا جائے گا اور قانونی مشورے کے بعد مناسب جواب عدالت میں داخل کیا جائے گا۔
دوسری طرف، مسلم فریق نے مرکزی حکومت کے مؤقف کا خیرمقدم کیا ہے۔ درگاہ کے خادموں کی نمائندہ تنظیموں کے وکیل آشیش کمار سنگھ نے کہا کہ ہم شروع سے ہی مقدمے کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے آئے ہیں۔ ان کے مطابق، اس مقدمے کا مقصد صرف عوامی مقبولیت حاصل کرنا تھا اور اس کے ذریعے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
مسلم فریق نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ مرکز نے سچائی پر مبنی اور قانون کے مطابق مؤقف اختیار کیا ہے اور عدالت سے ایک بار پھر اس مقدمے کو خارج کرنے کی اپیل کی ہے۔
