تہور حسین رانا پاکستان آرمی کا سابق کپتان اور کینیڈا میں مقیم بزنس مین ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے امریکہ میں اپنی امیگریشن کمپنی کا غلط استعمال کرتے ہوئے 26/11 کے شریک سازشی ڈیوڈ ہیڈلی کو جعلی دستاویزات فراہم کیں، جنہیں ممبئی میں مقامات کی ریکی کے لیے استعمال کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، نومبر 2008 میں رانا خود بھی ممبئی آیا تھا اور اس نے پوی کے ایک ہوٹل میں قیام کے دوران حملے کی تیاریاں دیکھی تھیں۔
رپورٹس کے مطابق، ہندوستان نے 2018 میں رانا کے خلاف امریکہ سے حوالگی کی درخواست دی تھی۔ طویل قانونی جنگ کے بعد فروری 2024 میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس کے بھارت کو حوالے کیے جانے کی باضابطہ منظوری دی۔ رانا نے اس فیصلے کے خلاف امریکی سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی، لیکن اس کی درخواست خارج کر دی گئی۔
اب تہور رانا پر دہلی کی این آئی اے عدالت میں مقدمہ چلے گا اور اسے ان 166 بے گناہوں کے قتل کے لیے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، جو 2008 میں ممبئی میں ہوئے دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔
