
حیدرآباد: ہری دوار کے سمن نگر میں روشن علی شاہ بابا کے مزار کو آج بلڈوزر کے ذریعہ ملبے میں تبدیل کر دیا گیا۔ کلارین کے مطابق یہ انہدام ضلعی انتظامیہ کے ہاتھوں عمل میں آیا اور اتراکھنڈ حکومت کی اس مہم کا حصہ ہے جس کے تحت وہ مبینہ غیر قانونی مساجد، مدارس اور مزارات کو ہٹانے کا دعویٰ کر رہی ہے۔
تاہم اس اقدام نے مقامی آبادی کو تقسیم کر دیا ہے جبکہ مزار کے متولی نے اس کی تاریخ پر نئی روشنی ڈالی ہے۔یہ 10×15 میٹر کا ڈھانچہ محکمہ آبپاشی کی زمین پر تھا۔ جب بلڈوزر اپنا کام مکمل کر چکا، تو حکام نے بتایا کہ کوئی بھی اس کی ملکیت کا دعویٰ کرنے یا قانونی کاغذات دکھانے کے لیے آگے نہیں آیا۔
ایک اہلکار نے کہا”یہ مزار محکمہ آبپاشی کی زمین پر تھا۔“ حیرت کی بات یہ رہی کہ جب ملبہ ہٹا دیا گیا تو نیچے نہ کوئی بنیاد ملی اور نہ ہی انسانی باقیات۔بس چند اینٹیں اور کچھ ایک روپے کے سکے ایک بڑے برگد کے درخت کے نیچے موجود تھے، جہاں کبھی یہ مزار کھڑا تھا۔مزار کے موجودہ متولی آفتاب نے اس کے پس منظر پر روشنی ڈالی۔
”میرے والد یہاں آ کر چراغ بتی کیا کرتے تھے“۔ انہوں نے بتایاجو چراغ جلانے کی ایک رسم ہے۔”اس سے پہلے اختر حسین آزاد نے یہاں ایک چراغ دان لگایا تھا۔ پھر ان کے بیٹے انعام وکیل حسین نے ذمہ داری سنبھالی۔ اب میں یہاں ہوں۔“ باوجود اس کے کہ ان کا خاندان نسلوں سے اس جگہ سے جڑا ہوا تھا، آفتاب کے پاس مزار کی قانونی حیثیت ثابت کرنے کے لیے کوئی دستاویز نہیں تھی۔
بنیاد یا انسانی باقیات نہ ملنے پر کئی مقامی افراد میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں کچھ لوگوں نے اسے”لینڈ جہاد“ یعنی سرکاری زمین پر مذہبی تجاوزات کا معاملہ قرار دیا مگر اس دعوے کے حق میں کوئی مضبوط ثبوت سامنے نہیں آیا۔علاقے کے لوگ اس معاملے پر منقسم نظر آئے۔مقامی مسلمان محمد آصف نے کہا ”حکومت کو اس طرح چن چن کر کارروائی نہیں کرنی چاہیے۔“
ایک اور مقامی شخص نے جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ”ہم اس ملک کے لیے جان دے سکتے ہیں مگر انصاف سب سے پہلے آنا چاہیے۔“ اس نے کہا وہ جو کرنا چاہتے ہیں کریں ہمیں کچھ کہنے کا حق نہیں۔ آخر میں فیصلہ صرف خدا کرتا ہے کہ کون رہے اور کون نہ رہے۔ دوسری طرف ایک دکاندار رمیش کمار نے اس اقدام کی حمایت کی۔ اس نے کہا کہ یہ عقیدے کا نہیں، قانون کا معاملہ ہے۔
اگر زمین تمہاری نہیں، تو تم اس پر تعمیر نہیں کر سکتے۔چیف منسٹر پشکر سنگھ دھامی کے دور میں اتراکھنڈ میں سخت کارروائیاں جاری ہیں۔ رپورٹس کے مطابق حالیہ مہینوں میں ریاست بھر میں 550 سے زائد مزارات‘ کئی مساجد اور مدارس گرائے جا چکے ہیں۔ حکومت کے ایک ترجمان نے اس ہفتے کہا کہ جو بھی بغیر اجازت تعمیر ہوا ہے ہم اسے ہٹا رہے ہیں، چاہے وہ کچھ بھی ہو۔