سپریم کورٹ کے جسٹس ابھے ایس اوکا دورانِ سماعت وکلاء کی بے ترتیبی پر برہم ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ عدالتی بد نظمی دیکھنے کو ملتی ہے اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وہ تمام فائلیں پھینک دیں گے


سپریم کورٹ آف انڈیا /آئی اے این ایس
سپریم کورٹ کے جسٹس ابھے ایس اوکا جمعہ (28 فروری) کو دورانِ سماعت اس وقت شدید برہم ہوگئے جب کئی وکلاء ایک ساتھ بولنے لگے اور اپنی اپنی دلیلیں دینے لگے۔ عدالت میں بدنظمی دیکھ کر جسٹس اوکا نے وکلاء کو خاموش رہنے اور باری باری بات کرنے کی ہدایت دی، تاہم جب وکلاء نے اس ہدایت کو نظر انداز کیا تو جسٹس اوکا غصے میں آ گئے۔
جسٹس ابھے ایس اوکا نے سخت لہجے میں کہا کہ وہ مسلسل عدالتی بد نظمی دیکھ کر تنگ آ چکے ہیں۔ انہوں نے وکلاء کے طرزِ عمل پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’’روزانہ عدالتی بدنظمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ وکلاء سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ کس کی نمائندگی کر رہے ہیں لیکن کوئی جواب نہیں دیتا۔‘‘ جسٹس اوکا نے مزید کہا، ’’اگر عدالت میں یہی ماحول رہا تو میں ساری فائلیں پھینک دوں گا۔ اب ایک نیا اصول بننا چاہیے کہ اگر وکلاء ایک ساتھ بولتے رہے تو ان کی فائلیں خارج کر دی جائیں گی۔‘‘
’بار اینڈ بنچ‘ کی رپورٹ کے مطابق جسٹس اوکا نے کہا، ’’اس قسم کی بدنظمی صرف سپریم کورٹ میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ میں کرناٹک اور بمبئی ہائی کورٹ میں بھی رہا ہوں لیکن وہاں ایسا کبھی نہیں ہوا۔‘‘ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عدالت میں نظم و ضبط کی کمی پر سخت نالاں ہیں اور وکلاء کے رویے کو تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب جسٹس اوکا نے وکلاء کے رویے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہو۔ ستمبر 2024 میں بھی جسٹس اوکا اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح کی بینچ نے وکلاء کی جانب سے جھوٹے بیانات دینے پر ناراضگی ظاہر کی تھی۔ اس وقت بھی عدالت نے واضح کیا تھا کہ وکلاء کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور جھوٹے دلائل سے اجتناب کرنا چاہیے۔