حیدرآباد: مولانا شاہ محمد اظہار الحق قریشی چشتی صابری مظفر قاسمی خلف اکبر وجانشین حضرت مولانا شاہ محمد عبدالغفور قریشی ؒ نے کہا کہ خدا کی شان اس کا سبحان ہونا ہے،یقینا اس کی عظمت و کبریائی اور اس کی قدرت میں کوئی غیر شامل نہیں ہے ،تعریف اسی خداکی ہے جس نے یہ کائنات بنائی ہے ،عظیم وہ ہے جو تمام نقائص سے منزہ و مبرہ اور تمام صفات کمالیہ کا جامع ہو ۔
صحیح بخاری کی آخری حدیث سبحان اللّٰہ و بحمدہ سبحان اللّٰہ العظيم میں اسی مضمو ن کی طرف اشار ہ ہے ، اس وظیفہ کی فضيلت یہ ہے کہ صبح و شام 100 مرتبہ پڑھنےوالے کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں اگرچہ سمندر کے کف(جھاگ) کے برابر کیوں نہ ہو، اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی صفات پر تفکر ازدیادِ ایمان کا باعث ہے،ان خیالات کا اظہار عارف باللّٰہ مولانا شاہ ابو الفتح محمد اظہار الحق قریشی چشتی صابری مظفر قاسمی دامت برکاتہم العالیہ جانشین جنیدِ وقت حضرت مولانا شاہ عبد الغفور قریشی چشتی صاحب ؒ نے جامعہ عربیہ ارشاد العلوم میر محمود پہاڑی حیدرآباد میں منعقدہ جلسہ تکمیل درس بخاری شریف میں بخاری شریف کی آخری حدیث کادرس دیتے ہوئے کیا ۔
جس میں 10 طالبات فضیلت اور8 / طالبات عالمیت اور 18 /طالبات نے مولویت کا کورس مکمل کیا ،اس موقع پر ان تمام طالبات کی خمار بندی و گل پوشی کی گئی اور اسناد سے نوزا گیا ، مولانا شاہ اظہار الحق قریشی نے اپنے سلسلہ خطاب میں کہا کہ صحیح بخاری کی آخری حدیث دراصل ایک عظیم وظیفہ ہے جس کو ہر صبح وشام بکثرت پڑھنا چاہئے۔
یہ دو پسندیدہ کلمے سبحان اللّٰہ وبحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم ایسےعظیم ہیں ،جو زبان پر ہلکے اور میدان محشر کے ترازو میں وزنی ہیں،اس کلمہ کے پڑھنے والے کا نامۂ اعمال نیکیوں کی وجہ سے وزنی ہو جاتا ہے ،انہوں نے کہا کہ اسلام میں نماز کی تحدید ہے، مقدار زکوٰۃ کا تعین ہے،ایام حج کا انتخاب ہے اور قربانی کے ایام مقرر ہیں مگر جہاں ذکرِ الٰہی کا تذکرہ ہے وہاں پر کوئی تحدید و تعیین یا کوئی مقدار متعین نہیں کی گئی بلکہ وہاں ذکرِ کثیر کہا گیا ہے ،اس کا مطلب یہ ہے کہ اللّٰہ کا ذکر خوب کرو، دن،رات،مہینہ و تاریخ مقرر نہ کرو بلکہ صبح و شام چلتے پھرتے ،اٹھتے ،بیٹھتے ہر آن خوب ذکر کرتے رہو، ہمیشہ ذکر جہری اور ذکر قلبی سے اپنے قلوب کو منور کرتے رہیں ۔
ذکر روحانی غذا ہے ،جو ذکر سے ہمیشہ اپنی زبان کو تر بتر رکھتا ہے اس کا دل زندہ رہتا ہے اور جو ذکر سے غافل رہتا ہے اس کا دل مردہ ہوجاتا ہے ، مولانا قریشی نے کہا کہ حواسِ خمسہ ظاہرہ کے ذریعہ قدرت الٰہی کو پہچانیں کہ کس طریقہ سے اللّٰہ تعالیٰ نے ہمیں دیکھنے ،سننے، سونگھنے ،پکڑنے اورچھونے کی حس عطا فرمائی ۔
بندہ اگر ان پانچوں حواس میں سے اگر کوئی حس کھو بیٹھتا ہے تو کتنا پریشان ہوجاتا ہے،ان پانچوں حواس کے ذریعہ قدرتِ الہی کو پہچانیں،مولانا نے طالبات و خواتین کو حدیث کی روشنی میں نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ شوہر کی اتنی خدمت کروکہ تم اس کی باندی(خوب خدمت کرنے والی) بن جاؤ تو اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ شوہر تمہارا غلام (مطیع)بن جائے گا۔
مولانا قریشی نے کہا کہ خدمت سے انسان کا مرتبہ بلند ہوتا ہے ،ہارون رشید ؒ کے پاس ان کا ایک مملوک و غلام تھا جو بہت فرمانبردار،اطاعت گزار تھا ،جب ان کا انتقال ہوا تو ہارون رشید بہت رونے لگے ،وجہ دریافت کرنے پر فرمایا کہ وہ میرے لئے انتہائی عزیز اور مقرب تھا کیوں کہ اس نے میری اتنی زیادہ خدمت کی کہ گویا وہ میرا مالک اور میں اس کا مملوک بن گیا تھا۔
مفتی الیاس احمد قاسمی استاذ دارالعلوم رحمانیہ ونگران شعبہ تعلیمات جامعہ ہذا نے سالانہ تعلیمی رپورٹ پیش کی،مولانا محمد مجیب الدین حسامی، مفتی عبد المنعم فاروقی قاسمی ،مولانا عبد الواسع قریشی حسامی ،مفتی عبدالرحمن الماس قریشی حسامی نے بھی اپنے زریں خطابات سے نوازا ۔
مولانا محمد حبیب الرحمٰن حسامی ناظم جامعہ عربیہ ارشاد العلوم نے کہا کہ جامعہ ہٰذا الحمدللّٰہ 25/سال سے دینی خدمات میں مصروف ہے،جہاں پر شعبہ ناظرہ وحفظ طلبہ وطالبات، شعبہ عالمیت اناث،مہندی ڈیزا ئن کورس،ٹیلرنگ سنٹر، تربیتی پکوان کے علاوہ مراکز نسواں اور مکاتب اطفال قائم ہے ،منبر و محراب فاؤنڈیشن اور صوت القرآن کے اشتراک سے ارشاد العلوم مختلف جہات سے دینی ،ملی،سماجی و رفاہی خدمات بحمداللہ انجام دے رہاہے۔