کیر اسٹارمر نے وزیر اعظم عہدہ سے استعفیٰ کا اعلان کرتے وقت انتہائی جذباتی ہو گئے اور کہا کہ وہ ملک کے لاکھوں لوگوں کی زندگی کو مثبت طریقے سے بدلنے کا مقصد لے کر سیاست میں آئے تھے۔
i
برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے پیر کے روز ملک کے اعلیٰ ترین انتظامی دفتر 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ سے اپنی اہلیہ کے ساتھ باہر آ کر عوام کی تالیوں کے درمیان وزیر اعظم کے عہدے اور لیبر پارٹی کی قیادت سے استعفے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ استعفیٰ کا اعلان کرنے کے بعد پریس کانفرنس کے آخر میں جب وہ اپنی اہلیہ اور بچوں کا ذکر کر رہے تھے، تو انتہائی جذباتی بھی ہو گئے اور ان کی آنکھیں نم نظر آئیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں اب اپنی زندگی کے سب سے اہم کام پر زیادہ وقت صرف کروں گا۔ یعنی اپنی شاندار اہلیہ وِک کے لیے بہترین شوہر بننے کی کوشش کروں گا، اور اپنے خوبصورت بچوں کے لیے بہترین والد بنوں گا، جو ہمیشہ میری خوشی اور فخر کا باعث رہے ہیں۔‘‘
گزشتہ چند دنوں سے جاری قیاس آرائیوں کے بعد ہونے والے اس بڑے استعفیٰ کے باعث کیئر اسٹارمر گزشتہ 10 برسوں میں ڈیوڈ کیمرون، تھریسا مے، بورس جانسن، لیز ٹرس اور رشی سُنک کے بعد مدت پوری ہونے سے پہلے عہدہ چھوڑنے والے چھٹے برطانوی وزیر اعظم بن گئے ہیں۔ اسٹارمر نے عہدہ چھوڑتے وقت کہا کہ وہ ملک کے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کے مقصد سے ہی سیاست میں آئے تھے۔ 2 سال قبل جب وہ اس تاریخی عمارت 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں آئے تھے، تو وہ ان کی زندگی کا سب سے زیادہ باعث فخر لمحہ تھا۔ پیر کو جب انہوں نے اپنی رخصتی کا اعلان کیا تو عوام نے تالیاں بجا کر ان کا استقبال کیا۔
ذیل میں برطانیہ کے ان وزرائے اعظم کا ذکر پیش کیا جا رہا ہے، جنھوں نے گزشتہ 10 سالوں میں اپنی مدت کار مکمل کرنے سے پہلے ہی وزیر اعظم عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔
رشی سُنک
کیئر اسٹارمر سے عین قبل رشی سُنک (24-2022) نے جولائی 2024 میں مقررہ وقت سے پہلے عام انتخابات کا اعلان کیا تھا۔ 4 جولائی 2024 کو ہونے والے ان انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کو لیبر پارٹی کے ہاتھوں شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس انتخابی شکست کی مکمل اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے سُنک نے اگلے ہی دن 5 جولائی 2024 کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
لیز ٹرس
برطانیہ کی تاریخ میں لیز ٹرس کی مدت کار سب سے مختصر، محض 45 دن رہی۔ ستمبر 2022 میں وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے ایک معاشی منی بجٹ پیش کیا، جس میں بڑے پیمانے پر ٹیکس میں کٹوتی کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں برطانوی پاؤنڈ میں تاریخی گراوٹ آئی، بانڈ مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی اور معاشی عدم استحکام پیدا ہو گیا، جس کے باعث انہیں اپنی ہی پارٹی اور اراکین پارلیمنٹ کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے ناراض ہو کر انہوں نے 20 اکتوبر 2022 کو استعفیٰ دے دیا۔
بورس جانسن
سابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا دور اقتدار تنازعات اور اسکینڈلز سے گھرا رہا۔ ان پر کووڈ لاک ڈاؤن کے ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈاؤننگ اسٹریٹ میں پارٹی منعقد کرنے یعنی ’پارٹی گیٹ‘ کا سنگین الزام لگا تھا۔ اس کے ساتھ ہی کرس پنچر جنسی ہراسانی معاملے میں تنازعہ کے سبب جولائی 2022 میں ان کی کابینہ کے درجنوں وزرا نے استعفا دے دیا۔ شدید دباؤ اور اعتماد کھو دینے کے بعد 7 جولائی 2022 کو جانسن نے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفا دے دیا۔
تھریسا مے
ڈیوڈ کیمرون کے استعفیٰ کے بعد تھریسا مے نے برطانیہ کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔ ان کا بنیادی کام بریگزٹ معاہدے کو پارلیمنٹ سے منظور کرانا تھا، لیکن ان کا ودڈرال ایگریمنٹ پارلیمنٹ میں 3 مرتبہ بھاری فرق سے مسترد ہو گیا۔ انہیں اپنی ہی پارٹی کے اندر گہری تقسیم، بار بار شکست اور قیادت کو درپیش کھلے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے نتیجے میں تھریسا مے کو بھی وقت سے پہلے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔
ڈیوڈ کیمرون
اس سلسلے کا آغاز 2016 میں ڈیوڈ کیمرون کے استعفیٰ سے ہوا تھا۔ کیمرون نے برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے یا اس سے الگ ہونے کے بارے میں ایک تاریخی ریفرنڈم کرایا تھا۔ وہ خود یورپی یونین میں برقرار رہنے کے بڑے حامی تھے، لیکن 23 جون 2016 کو عوام نے 52 فیصد ووٹ دے کر علیحدگی کے حق میں فیصلہ دے دیا، جس کے بعد اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہوں نے 24 جون کو استعفیٰ دینے کا اعلان کیا اور 13 جولائی 2016 کو باضابطہ طور پر وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

