
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے بیروت میں شہدائے امت کے سردار سید حسن نصر اللہ کے روضہ مبارک پر منعقدہ عاشورائی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں حزب اللہ اور مزاحمتی گروہوں کے خاتمے کے لیے ایک منصوبہ بنایا گیا تھا، لیکن وہ منصوبہ مکمل طور پر ناکام ہوگیا ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے اپنے خطاب کے آغاز میں صہیونی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یک طرفہ جنگ بندی دراصل اسرائیلی جارحیت کے تسلسل کے مترادف ہے اور حزب اللہ اسے ہرگز قبول نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے عظیم قربانیوں کے باوجود مزید مضبوط ہو کر ابھرنے کا ثبوت دیا ہے اور یہ واضح کردیا ہے کہ وہ اپنے حقوق سے دستبردار ہونے والا ملک نہیں اور خطے میں اس کی ایک مؤثر اور خودمختار آواز موجود ہے۔
حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ لبنان میں جنگ اُولی البأس کے دوران تقریباً دس ہزار فضائی حملے کیے گئے، لیکن تمام تر قربانیوں کے باوجود مزاحمت ثابت قدم رہی اور اپنے مؤقف پر ڈٹی رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور مقاومتی محاذ کے خاتمے کا منصوبہ ناکام ہوچکا ہے اور اب ایک نئے مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے جو امریکی۔اسرائیلی منصوبے کی شکست کے نتائج سے عبارت ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسی جنگ بندی جس میں اسرائیل کو آزادانہ کارروائی کی اجازت حاصل ہو، درحقیقت جارحیت کا تسلسل ہے اور حزب اللہ اسے کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ نے گزشتہ پندرہ ماہ کے دوران بھی ایسے کسی تجویز کو قبول نہیں کیا تھا اور نہ ہی 27 نومبر کے معاہدے کے بعد اس پر آمادگی ظاہر کی۔
