
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے علاقے بورگن اشٹوک میں ہونے والے مذاکرات کے اختتام پر قطر اور پاکستان کی ثالثی میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں متعدد اہم نکات اور معاہدوں کا اعلان کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ایرانی مذاکراتی وفد کے دباؤ کے نتیجے میں ہفتے کی شام سے لبنان میں جنگ بندی فی الحال نازک مگر برقرار ہے۔ اس جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لیے “یونٹ آف کانفلکٹ کنٹرول” کے نام سے ایک نگران نظام تشکیل دیا جائے گا، جس میں ایران بھی شامل ہوگا۔ اس پیش رفت کو لبنان کے سکیورٹی معاملات میں ایران کی باضابطہ واپسی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اسرائیل کو اس نظام میں کوئی کردار نہیں دیا گیا۔
اعلامیے میں آبنائے ہرمز کے انتظامی امور سے متعلق بھی اہم پیش رفت کا ذکر کیا گیا ہے۔ طے پایا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار کھولنے کی ضمانت کے لیے ایک رابطہ نظام قائم کیا جائے گا تاکہ کسی بھی مسئلے کی صورت میں متعلقہ فریق براہِ راست ایران سے رابطہ کر سکیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ اقدام آبنائے ہرمز پر ایران کی حاکمیت کے مزید استحکام کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
مشترکہ اعلامیے کے تحت جوہری امور، پابندیوں اور نگرانی سے متعلق تین خصوصی ورکنگ گروپس بھی تشکیل دیے جائیں گے۔ تاہم ان گروپس کا کام مفاہمتی یادداشت کی شق 13 پر عمل درآمد کے بعد شروع ہوگا، جس میں تمام محاذوں خصوصاً لبنان میں جنگ بندی، بحری محاصرے کے خاتمے، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور ان کے مشتقات پر عائد پابندیوں کے خاتمے کا آغاز شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات کے اس دور میں ایران اور قطر کے درمیان ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی سے متعلق ایک مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ مفاہمتی یادداشت کی شق 10 کے تحت امریکی وزارتِ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور ان کے مشتقات سے متعلق پابندیوں میں 60 روزہ نرمی کے دستاویزات جاری کر دیے ہیں۔ اس اقدام کے بعد ایران اپنے خریداروں کو باضابطہ طور پر تیل فروخت کرنے اور اس کی رقوم سرکاری بینکاری نظام اور مرکزی بینک کے ذریعے وصول کرنے کے قابل ہو سکے گا۔
