خفیہ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کے لیڈران اور کارکنان عوامی لیگ کے یوم تاسیس کے موقع پر ملک کے کئی اضلاع اور شہروں میں پروگرام منعقد کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔


i
بنگلہ دیش میں 23 جون کو شیخ حسینہ کی پارٹی عوامی لیگ کا یوم تاسیس ہے۔ اس سے قبل سیکورٹی ایجنسیاں محتاط ہو گئی ہیں۔ خفیہ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کے لیڈران اور کارکنان اس موقع پر ملک کے کئی اضلاع اور شہروں میں پروگرام منعقد کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اسی خدشے کے پیش نظر پولیس نے پورے ملک میں سیکورٹی سخت کر دی ہے۔
پولیس ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری ایک اسپیشل لیٹر میں کہا گیا ہے کہ عوامی لیگ کے کارکنان پارٹی دفاتر پر جھنڈا لہرا سکتے ہیں اور عوامی پروگرام منعقد کر سکتے ہیں۔ پولیس کو خدشہ ہے کہ ان پروگراموں کے دوران دیگر سیاسی پارٹیوں، خاص کر نیشنل سٹیزنز پارٹی (این سی پی) اور امتیازی سلوک مخالف طلبہ تنظیموں کے ساتھ تصادم ہو سکتے ہیں۔
پولیس ہیڈکوارٹر کے ڈی آئی جی محمد قمر الحسن نے تمام پولیس یونٹس کو محتاط رہنے کی ہدایات دی ہیں۔ لیٹر میں کہا گیا ہے کہ اگر پولیس عوامی لیگ کی سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش کرتی ہے تو کارکنان احتجاج کر سکتے ہیں اور کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ اس لیے پہلے سے ہی ضروری سیکورٹی انتظامات کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تمام میٹروپولیٹن کمشنرز، رینج ڈی آئی جی اور پولیس ہیڈکوارٹر کے آپریشنز دپارٹمنٹ کو خصوصی نگرانی کا حکم دیا گیا ہے۔ سیکورٹی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ یوم تاسیس کے آس پاس امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں عوامی لیگ کے نام پر کئی مقامات پر اچانک جلوس نکالنے اور پرچے تقسیم کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ جمعرات کو ڈھاکہ کے موہاکھالی علاقے میں عوامی لیگ کے ایک جلوس کے دوران کاک ٹیل بم پھینکا گیا۔ اس واقعے کے بعد 3 لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔ اسی روز عوامی لیگ کی حلیف تنظیم ’جوبو لیگ‘ نے بھی ’گن-بھون‘ کے سامنے جلوس نکالا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممنوعہ سیاسی تنظیم کی سرگرمیوں سے عوام کا تحفظ متاثر نہ ہو، اس کے لیے حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس (ڈی ایم پی) کے ایڈیشنل کمشنر ایس این نذر الاسلام نے کہا کہ ’’23 جون کو ہونے والے پروگراموں کے پیش نظر پولیس پوری طرح الٹ پر ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں چیک پوسٹیں لگائی جا رہی ہیں اور اضافی سیکورٹی فورسز تعینات کی گئی ہیں، تاکہ کسی بھی تشدد، توڑ پھوڑ یا بدامنی کو روکا جا سکے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

