
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ اور رہبر معظم کے عسکری مشیر محسن رضایی نے کہا ہے کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم اور وزارت خارجہ کو رہبرانقلاب کے حالیہ پیغام کو مذاکرات کا مکمل فریم ورک قرار دینا چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق محسن رضائی نے ایک خصوصی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رہبر انقلاب کا پیغام مختصر ہونے کے باوجود جامع اور اہم نکات کا حامل تھا۔ گزشتہ چند مشکل مہینوں میں رہبر انقلاب نے ملک کے امور کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا اور ایک کٹھن آزمائش سے کامیابی کے ساتھ نکلے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رہبر انقلاب نے اپنے پیغام میں ریاست کے مختلف اداروں کے کردار اور ذمہ داریوں کی نشاندہی کی، ساتھ ہی امریکہ کی زیادتیوں کے سامنے ڈٹ جانے اور دشمن کے ظاہری مسکراہٹوں سے مرعوب نہ ہونے کی تلقین بھی کی۔ امریکہ مجبوری اور بے بسی کے تحت مذاکرات کی طرف آیا ہے، اس لیے رہبر انقلاب کا پیغام مذاکرات کی بنیاد بننا چاہیے۔
محسن رضائی نے زور دے کر کہا کہ مذاکراتی ٹیم عوام کے سامنے جواب دہی کا عملی مظاہرہ کرے اور مذاکرات و معاہدوں کی جزئیات سے قوم کو آگاہ رکھے، کیونکہ رہبرِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنی مقررہ شرائط کے پورا ہونے کا منتظر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دشمن ماضی میں بھی وعدہ خلافی اور سفارتی بدعہدی کا مظاہرہ کرتا رہا ہے، اس لیے اس کی نیت اور طرزِ عمل کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ان کے بقول، ایران کو مذاکرات کے دوران ہر ممکنہ صورتحال کے لیے تیار رہتے ہوئے اپنی قوت میں اضافہ جاری رکھنا چاہیے۔
محسن رضائی نے امریکی صدر ٹرمپ کے حوالے سے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے یہ گمان کیا تھا کہ محورِ مزاحمت کے اتحادیوں کی کمزوری کے بعد ایران کمزور ہو چکا ہے، لیکن جنگ کے پندرہویں دن امریکہ کو اندازہ ہو گیا کہ وہ ایک دلدل میں پھنس چکا ہے اور اس کے لیے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا ناگزیر ہوگیا تھا۔
