ماسکو ’سیاہ بارش‘ کی زد میں، یوکرینی ڈرون حملے کے بعد روس میں دہشت کا ماحول

بتایا جاتا ہے کہ یوکرین نے ماسکو کو نشانہ بناتے ہوئے سینکڑوں ڈرون داغے، جسے اس جنگ کا اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر سوشل میڈیا</p></div><div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر سوشل میڈیا</p></div>

i

user
google_preferred_badge

یوکرین کی جانب سے کیے گئے اب تک کے سب سے بڑے ڈرون حملے نے روس کی راجدھانی ماسکو کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس حملہ کے بعد ماسکو کے جنوب مشرقی علاقوں، مثلاً کاپوتنیا اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں آسمان سے ’سیاہ بارش‘ ہونے کا ایک عجیب اور خوفناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ مقامی باشندوں کی گاڑیوں، کپڑوں اور سڑکوں پر سیاہ رنگ کے چپچپے تیل کے قطرے اور کالک جم گئی ہے، جس نے سائنسدانوں اور ماہرین ماحولیات کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

یوکرین کے صدر ولودمیر زیلنسکی نے اس حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے یہ جنگ کبھی نہیں چاہی تھی، لیکن اگر یوکرین جلے گا تو تمہارا ماسکو بھی جلے گا۔ یہ حملہ یوکرین کے شہر کیف میں واقع ایک تاریخی خانقاہ پر روسی حملہ کے جواب میں کیا گیا تھا۔ اس شدید فوجی تصادم کے درمیان ماسکو میں ہونے والی اس ’کالی بارش‘ نے عام شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ یوکرین نے ماسکو کو نشانہ بناتے ہوئے سینکڑوں ڈرون داغے، جسے اس جنگ کا اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ روسی وزارت دفاع کا دعویٰ ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ملک بھر میں چھوڑے گئے سینکڑوں ڈرون مار گرائے، تاہم کئی ڈرون ماسکو کی فضائی حدود میں داخل ہونے میں کامیاب رہے۔ اس حملے کا بنیادی ہدف ماسکو کے جنوب مشرقی کنارے پر واقع کاپوتنیا آئل ریفائنری تھی۔ یہ ریفائنری ماسکو میں استعمال ہونے والے تقریباً 40 فیصد پٹرول اور نصف ڈیزل کی فراہمی کرتی ہے۔ یوکرینی ڈرونز، جن میں نئے ہائبرڈ ’بارس‘ ڈرون-کروز میزائل بھی شامل تھے، نے ریفائنری کے بڑے تیل ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں کو انتہائی کامیابی سے نشانہ بنایا۔

اس حملہ کے بعد دھماکہ اتنا شدید تھا کہ تیل کے ایک بڑے ٹینک کی چھت درجنوں میٹر بلند ہوا میں جا اڑی اور آسمان میں کئی کلومیٹر بلند سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھنے لگے۔ اس خوفناک آگ کے باعث ماسکو کے متعدد ہوائی اڈے بند کرنے پڑے اور سینکڑوں پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ حملے کے چند گھنٹوں بعد ریفائنری سے کئی کلومیٹر دور واقع بالاشیخا اور دیگر مضافاتی علاقوں کے رہائشیوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرنی شروع کر دیں۔ ان ویڈیوز میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا کہ آسمان سے پانی کے قطروں کے ساتھ سیاہ دھبے بھی گر رہے ہیں۔ گاڑیوں کی چھتوں پر کالے تیل کی تہہ جم گئی تھی۔ باہر نکلنے والے افراد کے کپڑے کالک اور تیل آلود قطروں سے خراب ہو گئے تھے۔ مقامی انتظامیہ نے ابتدا میں کسی بھی قسم کی ’آئل رین‘ سے انکار کیا، لیکن بعد میں صورت حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ماسکو کے سرکاری ٹیلیگرام چینل پر ایک انتباہ جاری کیا گیا۔ انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو اپنی کھڑکیاں بند رکھنے کا مشورہ دیا اور بچوں، بزرگوں و دمہ کے مریضوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔

قابل ذکر ہے کہ آسمان سے عام پانی کے بجائے کالے اور تیل آلود مادے کا برسنا کوئی ماورائی یا قدرتی آفت نہیں، بلکہ خالصتاً ایک طبعی اور کیمیائی عمل کا نتیجہ ہے۔ اس واقعے کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ جب ڈرونز نے ریفائنری میں خام تیل اور صاف شدہ ایندھن کے ٹینکوں کو نشانہ بنایا تو وہاں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ پیٹرولیم مصنوعات ہائیڈروکاربن پر مشتمل ہوتی ہیں۔ جب ایک ساتھ بہت زیادہ مقدار میں تیل جلتا ہے تو وہاں آکسیجن کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔ آکسیجن کی کمی کے باعث تیل مکمل طور پر نہیں جلتا۔ اس عمل کے دوران بڑی مقدار میں غیر جلا ہوا کاربن، جسے کالک کہا جاتا ہے، انتہائی باریک ذرات کی صورت میں فضا میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ آسمان پر گہرے سیاہ رنگ کا گاڑھا دھواں چھا گیا۔ ریفائنری میں لگی آگ سے بے پناہ توانائی اور حرارت پیدا ہوئی۔ شدید درجۂ حرارت کے باعث ریفائنری کے اوپر کی ہوا تیزی سے بلند ہونے لگی، جسے سائنسی زبان میں ’تھرمل اَپ ڈرافٹ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ طاقتور گرم ہوا اپنے ساتھ غیر جلے ہوئے خام تیل کے باریک قطرے اور بھاری مقدار میں کالک کو فضا کی بالائی سطحوں تک لے گئی۔

جب یہ باریک کاربن ذرات اور تیل کے قطرے فضا کے بالائی اور نسبتاً سرد حصوں تک پہنچے تو انہوں نے ’کنڈینسیشن نیوکلیائی‘ کا کردار ادا کیا۔ فضا میں موجود نمی ان کاربن ذرات اور تیل آلود اجزا کے گرد جمع ہونے لگی۔ ریفائنری سے بخارات بن کر اوپر جانے والا تیل بھی ٹھنڈا ہو کر دوبارہ مائع قطروں میں تبدیل ہونے لگا۔ جب یہ تیل اور کالک سے بھرپور قطرے فضا میں معلق رہنے کے لیے بہت بھاری ہو گئے تو کشش ثقل کے باعث زمین کی طرف گرنے لگے۔ چونکہ اس وقت علاقے میں ہلکی پھوار بھی پڑ رہی تھی، اس لیے قدرتی بارش کے قطروں نے فضا میں موجود ان ہائیڈروکاربن اور کالک کے ذرات کو اپنے اندر شامل کر لیا۔ جب یہ مرکب زمین پر گرا تو اس نے ایک چکنی، تیل آلود اور چپچپی ’سیاہ بارش‘ کی شکل اختیار کر لی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *