لیباریٹری کے ماہرین نے پانی کے نمونوں کو کیمیائی اور حیاتیاتی اعتبار سے غیر معیاری قرار دیتے ہوئے پانی کو استعمال کے لیے غیر محفوظ بتایا ہے۔


i
راجستھان کے ضلع بھیلواڑہ میں قومی شاہراہ پر واقع گرام پنچایت بیرا واقع جسونت پورہ میں موجود ’دھرم تالاب‘ سے متعلق ایک سنگین ماحولیاتی اور عوامی صحت کا بحران سامنے آیا ہے۔ محکمۂ صحت عامہ انجینئرنگ کی جانچ رپورٹ میں تالاب کے پانی کو انسانوں اور جانوروں کے استعمال کے لیے غیر محفوظ قرار دیے جانے کے بعد بنیڑا کے سب ڈویژنل افسر بابو لال نے پورے علاقے میں احتیاطی اقدامات کے تحت پابندی نافذ کر دی ہے۔ چائے کی دکانوں، چوپالوں اور کیرانہ اسٹورز کے باہر حکم نامے کی نقول چسپاں کی گئی ہیں اور گاؤں میں مائیک کے ذریعہ اعلانات کر کے لوگوں کو پابندی پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی جا رہی ہے۔
دراصل گزشتہ دنوں 300 سے زائد گھروں پر مشتمل آبادی والے جسونت پورہ کے دھرم تالاب میں ہزاروں مچھلیوں، آبی جانداروں، پرندوں اور جانوروں کی ہلاکت کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ بڑی تعداد میں مچھلیوں کی موت کے بعد مقامی دیہی عوام میں تشویش کی لہر پیدا ہو گئی۔ تالاب کی سطح پر مردہ مچھلیاں تیرتی ہوئی نظر آنے لگیں، جس کے بعد گرام سرپنچ نے خط لکھ کر انتظامیہ کو اس معاملے سے آگاہ کیا۔ مقامی اے این ایم ملا مینا نے بھی اس واقعہ کی اطلاع محکمہ صحت کو دی۔ اس کے بعد محکمۂ صحت اور پی ایچ ای ڈی نے تالاب کے مختلف حصوں سے پانی کے نمونے جمع کر کے ان کی جانچ کروائی۔
ضلعی لیباریٹری، بھیلواڑہ کی رپورٹ کے مطابق تالاب کے پانی میں مجموعی کولیفارم بیکٹیریا کی مقدار 2000 سی ایف یو فی 100 ملی لیٹر پائی گئی، جبکہ ای-کولی بیکٹیریا کی تعداد 600 سے 700 سی ایف یو فی 100 ملی لیٹر درج کی گئی۔ لیباریٹری کے ماہرین نے دونوں نمونوں کو کیمیائی اور حیاتیاتی اعتبار سے غیر معیاری قرار دیتے ہوئے پانی کو استعمال کے لیے غیر محفوظ بتایا ہے۔ اس کے باعث دیہی عوام روایتی آبی ذرائع کے پانی کا استعمال کرتے ہوئے بھی جھجک محسوس کر رہے ہیں۔ پورا گاؤں اس وقت خوف و تشویش میں مبتلا ہے۔
لوگوں نے علاقے میں سرگرم کمپنی ’ایبسولیوٹ گرین فیولس ایل ایل پی‘ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فیکٹری سے خارج ہونے والا کیمیائی فضلہ اور آلودہ پانی مناسب صفائی کے بغیر تالاب میں چھوڑا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے پانی کا معیار متاثر ہوا ہے۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ کمپنی کی جانب سے اب تک کوئی آفیشیل رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ساتھ ہی دھرم تالاب کے پانی کے آلودہ ہونے کے بعد بھی کسی عوامی نمائندے کے جسونت پورہ گاؤں نہ پہنچنے پر لوگوں میں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔
لیباریٹری کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد بلاک کے چیف میڈیکل آفیسر نے فوری طور پر بنیڑا کے سب ڈویژنل افسر بابو لال کو رپورٹ پیش کیا۔ انھوں نے علاقے میں کسی بیماری کے پھیلنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے مویشی پالنے والوں اور دیہی عوام کو تالاب کے پانی سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس معاملہ میں سب ڈویژنل افسر نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ایک حکم بھی جاری کر دیا۔ پنچایت اور انتظامیہ کی جانب سے گاؤں میں پابندی کے احکامات چسپاں کیے جا رہے ہیں اور مائک کے ذریعہ اعلانات کر کے لوگوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ نہ تو وہ خود اس پانی کا استعمال کریں اور نہ ہی اپنے جانوروں کو یہ پانی پلائیں۔ اس کے ساتھ ہی تالاب کے اطراف انتباہی بورڈ نصب کر کے عوامی بیداری مہم چلانے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔
بنیڑا انتظامیہ نے ’بھارتیہ ناگرک سیکورٹی سنہتا، 2023‘ کی دفعہ 163 کے تحت دھرم تالاب کے اطراف ایک کلومیٹر کے دائرے میں پابندی کے احکامات نافذ کیے ہیں۔ حکم کے مطابق تالاب کے پانی کو پینے، کھانا پکانے، نہانے، جانوروں کو پلانے یا کسی بھی گھریلو ضرورت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ انتظامیہ نے ضرورت پڑنے پر علاقے کی باڑ بندی اور متبادل پینے کے پانی کی فراہمی کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پولیس اور مقامی انتظامیہ کو لاؤڈ اسپیکر، معلوماتی پمفلٹس اور دیگر ذرائع سے لوگوں کو بیدار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
گاؤں والوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر دھرم تالاب کے پانی کو آلودہ کرنے کے ذمہ دار افراد کے خلاف جلد کارروائی نہ کی گئی تو وہ احتجاج اور دھرنے کا راستہ اختیار کریں گے۔ ضلع کلکٹر کو میمورینڈم پیش کرنے کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔ فی الحال انتظامیہ کی اولین ترجیح ممکنہ صحت بحران کو روکنا اور متاثرہ علاقہ کے لوگوں اور جانوروں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

